پاک افغان ایڈیشنل سیکرٹری سطح کےمذاکرات کا پہلا دور مکمل

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایڈیشنل سیکریٹری سطح کے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا، جس میں دو طرفہ تعلقات، سیکیورٹی تعاون، تجارت، ٹرانزٹ اور کنیکٹیویٹی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری برائے افغانستان و مغربی ایشیا علی اسد گیلانی نے کی، جب کہ افغان وفد کی سربراہی افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل مفتی نور احمد نور نے کی۔
مذاکرات میں دونوں فریقین نے دہشت گردی کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ گروہ پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور خطے کی ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ملاقات کے دوران افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق معاملات جیسے 10 فیصد پروسیسنگ فیس کے خاتمے، انشورنس گارنٹی، اسکیننگ میں کمی، اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔
فریقین نے ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے فریم ورک معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا، جبکہ افغان شہریوں کی وطن واپسی اور سرحد پار قانونی نقل و حرکت کو سہل بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان نے جنوری 2024 سے اب تک طبی، سیاحتی، کاروباری اور تعلیمی مقاصد کے لیے پانچ لاکھ سے زائد ویزے جاری کیے ہیں۔
ترجمان کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی چیلنجوں سے نمٹنے اور روابط کو مؤثر بنانے کے لیے پائیدار تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ مذاکرات کا اگلا دور باہمی مشاورت سے طے شدہ تاریخ پر ہوگا۔
