بروشسکی زبان کی پہلی فلم ‘ہوندان’ کی اسلام آباد میں نمائش

بروشسکی زبان میں تیار کی گئی پہلی فلم ‘ہوندان، ایک نوحے کی بازگشت’ کی خصوصی نمائش گلگت بلتستان اور پاکستان کے دیگر حصوں سے آئے بزرگ شہریوں کے لیے منعقد کی گئی۔
تقریب میں ہنزہ کی بروشسکی بولنے والی کمیونٹی کے بزرگوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فلم بینوں نے شرکت کی اور اس منفرد فلم سے محفوظ ہوئے۔
فلم ایک قدیم لوک کہانی پر مبنی ہے جو صدیوں سے زبانی روایات کے ذریعے منتقل ہوتی رہی ہے، اور اکثر بزرگ حضرات اسے بچوں کی کہانی یا لوری کے طور پر سناتے ہیں۔
نمائش میں شریک کئی بزرگ شہریوں نے کہا کہ وہ اپنی بچپن کی یادوں میں سنی گئی کہانی کو سکرین پر زندہ ہوتے دیکھ کر جذباتی اور یادگار تجربہ محسوس کر رہے ہیں۔
فلم کے ہدایت کار کرامت علی نے کہا کہ وہ بزرگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس فلم کا موضوع بننے والی زبانی روایات کو محفوظ رکھا۔ بزرگ شہریوں نے اپنی خوشی اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنی لوک کہانی کو سینما کے ذریعے دیکھنا ایک مثبت قدم ہے جو بروشسکی ثقافت کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان آسکرز کے انتخابی کمیٹی نے مذکورہ فلم کو 98ویں اکیڈمی ایوارڈز کے لیے ملک کی سرکاری نمائندہ فلم کے طور پر منتخب کیا تھا تاہم دستاویزی اور انتظامی معاملات کی وجہ سے یہ فلم آسکرز تک پہنچ نہیں سکی۔
