دیامر میں سیلابی صورتحال: ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی ، 200 سیاح ریسکیو

بابوسر ٹاپ پر اچانک آنے والے سیلابی ریلے کے بعد دیامر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جب کہ اب تک 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جاں بحق افراد میں 4 سیاح اور 1 مقامی شہری شامل ہے۔

ڈپٹی کمشنر دیامر عطاء الرحمان کے مطابق، پیر کے روز علاقے میں کلاؤڈ برسٹ ہوا جس کے نتیجے میں شدید فلیش فلڈ آیا۔ بابوسر کے مقام پر ندی نالوں میں طغیانی کے باعث 10 سے 15 گاڑیاں، بشمول کوسٹرز، سیلابی ریلے میں بہہ گئیں۔

ریسکیو آپریشنز جاری ہیں، سراغ رساں کتوں اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی مدد سے لاپتہ سیاحوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے، جب کہ مزید 3 خواتین سیاح کو ریسکیو کر کے نکالا گیا۔

ڈی سی کے مطابق، قدرتی آفت کے باعث بجلی اور فائبر آپٹک لائنیں متاثر ہو چکی ہیں، جس سے مواصلاتی رابطوں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ 8 کلومیٹر سڑک مکمل تباہ اور 15 مقامات پر شاہراہ بابوسر بند ہے، جب کہ 4 رابطہ پل بھی سیلاب کی نذر ہو چکے ہیں۔

ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ سیلابی ریلے سے 2 ہوٹل، گرلز اسکول، پولیس چوکی اور 50 سے زائد مکانات مکمل تباہ ہو چکے ہیں۔ چلاس شہر میں متاثرہ سیاحوں کو ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں مفت قیام کی سہولت دی جا رہی ہے۔

راولپنڈی: نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرنل (ر) اور بیٹی برساتی نالے میں بہہ گئے

 

پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور دیگر اداروں نے بھی ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں حصہ لیا۔ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے بھی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ سیلاب سے زخمی ہونے والوں کو آر ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جب کہ متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ "ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو قدرتی آفات کے ردعمل میں ممکن ہے، تاہم خراب موسم اور مواصلاتی رکاوٹیں امدادی سرگرمیوں میں چیلنج بنی ہوئی ہیں۔”

 

Back to top button