فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ مارچ میں ہونے کا امکان

یکم مارچ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان میں تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کی باقاعدہ سماعت شروع ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ جلد آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے ملکی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ سکروٹنی کمیٹی پٹیشنر اکبر ایس بابر کے عائد کردہ غیر قانونی فنڈنگ کے الزامات کی پہلے ہی تصدیق کر چکی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ سے یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے بینک اکاؤنٹ چھپائے اور پارٹی چئیرمین عمران خان برس ہا برس اپنے دستخط سے غلط معلومات پر مبنی اکاؤنٹس اسٹیٹمنٹس جمع کرواتے رہے جس کی بنیاد پر وہ نااہل بھی قرار دیے جا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2008 سے 2012 تک چیئرمین عمران خان نے اپنے دستخط سے ہر سال صرف دو اکاؤنٹس کو ظاہر کیا جبکہ سال 2013 میں ای سی پی کے سامنے پی ٹی آئی کے چار بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا۔

اسکے علاوہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فراہم کردہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پی ٹی آئی چئیرمین نے سال 2008 میں پانچ، سال 2009 میں سات، سال 2010 میں تیرہ، سال 2011 میں چودہ اور سال 2012-13 میں چودہ بینک اکاؤنٹس چھپائے تھے۔ اسکے علاوہ پی ٹی آئی فارن فنڈگ کیس میں لاکھوں ڈالرز کی ٹرانزیکشنز بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔

پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کے حوالے کی جانے والی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ 14 غیر ممالک سے 20 لاکھ ڈالرز سے زائد کی ٹرانزیکشنز اور پارٹی کے بینک کھاتوں میں کروڑوں روپے کی مقامی ٹرانزیکشنز کے بارے میں معلومات ای سی پی حکام کو فراہم نہیں کی گئی۔ دستاویزات کی نقل کے مطابق تحریک انصاف کو 2013 میں ایک بھارتی کاروباری خاتون اور اس کے پاکستانی امریکی شوہر سے 29800 ڈالرز کا چندہ بھی ملا جو ممبئی، بھات میں رجسٹرڈ کمپنی کا مالک بھی ہے۔

لیکن ان کا چندہ بھی الیکشن کمیشن سے چھپایا گیا۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 پارٹیوں کو غیر ملکی شہریوں سے چندہ وصول کرنے سے منع کرتا ہے۔ ای سی پی نے 4 جنوری 2022 کو اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ شکایت کنندہ اکبر ایس بابر کے حوالے کی تھی۔ تاہم، رپورٹ کے اہم حصوں کو خفیہ رکھا گیا، خاص طور پر اسٹیٹ بینک کے ذریعے حاصل کردہ تمام دستاویزات اور پی ٹی آئی بینک اسٹیٹمنٹس جو بعد میں ان کے ساتھ شیئر کی گئیں۔

ریحام کے بعد کپتان کے دوست عون چوہدری بھی کتاب لکھنے لگے

اسٹیٹ بینک کی دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈنمارک، جرمنی، متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ، سویڈن، سنگاپور، نیوزی لینڈ، ہانگ کانگ، فن لینڈ، ڈنمارک، آسٹریا، سعودی عرب، ناروے اور متحدہ عرب امارات سمیت 14 مختلف ممالک سے ہونے والی لاکھوں ڈالر کی لین دین کو خفیہ رکھا گیا۔ اس کے علاوہ کروڑوں روپے کی لوکل ٹرانزیکشنز کی معلومات بھی ای سی پی حکام کو فراہم نہیں کی گئیں۔

اسکے علاوہ پاکستان اور بیرون ملک موجود درجنوں بینک اکاؤنٹس کو چھپایا گیا جس کے ثبوت اب سامنے آ چکے ہیں۔ مالی سال 2008 سے 2012 تک پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے دستخطوں کے تحت پارٹی نے ہر سال صرف دو اکاؤنٹس کو ظاہر کیا جبکہ سال 2013 کے لیے ای سی پی کے سامنے پی ٹی آئی کے چار بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا۔

الیکشن کمیشن اور سکروٹنی کمیٹی کے بار بار کے احکامات کے باوجود پی ٹی آئی کے تمام بین الاقوامی بینک اکاؤنٹس کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں جن میں چھ بین الاقوامی اکاؤنٹس شامل ہیں جن کی نشاندہی اکبر ایس بابر نے کی اور جنہیں پارٹی کی جانب سے تسلیم بھی کیا گیا۔

دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی فراہم کردہ بینک اکاونٹس کی تفصیل کے علاوہ KASB بینک کا ایک اکاونٹ اور دیگر کئی اکاوئنٹس کو بھی خفیہ رکھا گیا تھا۔ نہ تو پی ٹی آئی نے خفیہ رکھے گے بینک اکاونٹس کی اسٹیٹمنٹس جمع کروائیں اور نہ ہی اسکروٹنی کمیٹی نے انہیں شکایت کنندہ اکبر ایس بابر کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ یاد رہے کہ خفیہ رکھے گے پی ٹی آئی

کے KASB بینک لمیٹڈ، گلبرگ برانچ، لاہور کے بینک اکاؤنٹ میں 598 ملین روپے کی رقم منتقل کی گئی۔ اسکروٹنی کمیٹی نے 2018 کے اپنے حکم نامے میں پی ٹی آئی کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کے تمام بینک اسٹیٹمنٹس ’ڈیزاسٹر فنڈ، پارٹیز فنڈ وغیرہ‘ سے متعلق جمع کرائے لیکن ان اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات ابھی تک شیئر نہیں کی گئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے طلب کیے گئے اکاؤنٹس سے ان نامعلوم بینک اکاؤنٹس میں بھاری رقوم منتقل کی گئیں۔

شکایت کنندہ اکبر ایس بابر کے مطابق پی ٹی آئی نے بیرون ملک رکھے ہوئے اپنے متعدد بینک اکاؤنٹس سے ایک بھی بینک اسٹیٹمنٹ شیئر نہیں کی یہاں تک کہ جن کی شناخت پی ٹی آئی نے کی اور انہیں تسلیم کیا۔ ان میں امریکا میں پی ٹی آئی کے زیر انتظام بینک آف امریکا اکاؤنٹس، پی ٹی آئی کینیڈا، اور سی آئی بی سی بینک اکاؤنٹ وغیرہ شامل ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے ذریعے طلب کی گئی دستاویزات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پی ٹی آئی نے ای سی پی کے ساتھ 14 ممالک سے ملنے والے عطیات کی تفصیلات بھی شیئر نہیں کیں جس میں کیمن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ایک آف شور کمپنی کے 20 لاکھ امریکی ڈالرز سے زائد اور یو اے ای سے برسٹل انجینئرنگ سروسز سے 49965 امریکی ڈالرز شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق ایک پاکستانی نژاد امریکی ناصر عزیز احمد اور اس کی بھارتی نژاد امریکی بیوی نے پی ٹی آئی کو 27500 ڈالرز کا فنڈ فیا۔

24 اپریل 2013 کو اس بھارتی جوڑے نے پارٹی فنڈز میں 25000 ڈالرز کا چندہ دیا اور پھر 30 اپریل 2013 کو انہوں نے پی ٹی آئی کو مزید 2500 ڈالرز دیئے۔ اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ یہ بھی غیر قانونی فارن فنڈنگ کا معاملہ ہے جس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن ٹھیک انصاف پر بطور جماعت پابندی عائد کر سکتا ہے۔

Back to top button