پاک امریکا انٹیلیجنس تعاون جاری رہتا ہے : ترجمان دفتر خارجہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاک امریکا سکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون جاری رہتا ہے، اس میں کوئی تعطل نہیں آیا۔شریف اللہ کی گرفتاری اور حوالگی کوئی الگ واقعہ نہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے داعش کےخلاف خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بتایاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کےتحت شریف اللہ کو گرفتار اور امریکا کے حوالے کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دہشت گرد کمانڈر شریف اللہ کی گرفتاری پر وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیغام دیاتھا،ہم علاقائی امن و استحکام کےلیے امریکا کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھیں گے، پاکستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کےتحت شریف اللہ کو گرفتار اور امریکا کےحوالے کیا ہے۔
شفقت علی خان کاکہنا تھاکہ امریکا کے ساتھ سکیورٹی،انسداد دہشت گردی پر مبنی جاری تعاون تسلسل میں ہے،ہمارے امریکا سے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں، امریکا ہمارا بڑا برآمدی شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہاکہ شریف اللہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے حوالے کیاگیا، اس پر وزارت قانون بہتر بتاسکتی ہے،وزیر اعظم کا شریف اللہ کی گرفتاری پر رد عمل ایک ریاستی رد عمل تھا۔
شفقت علی خان نے کہاکہ بھارتی وزیر مملکت کے مودی کے آزاد کشمیر واپس لینے کی ہرزہ سرائی افسوس ناک اور باعث مذمت ہے۔
کابل ایئرپورٹ حملے کا ماسٹر مائنڈ داعش دہشت گرد امریکی عدالت میں پیش
انہوں نے کہاکہ بگرام ایئربیس واپس لینے یا نہ لینے کا معاملہ افغان اور امریکی حکومت کےدرمیان ہے،افغانستان سے بہتر ہمسائیگی پر مبنی تعلقات چاہتےہیں، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔
ترجمان نےکہا کہ افغان حکام طورخم بارڈر پر غیرقانونی چیک پوسٹ بنارہے تھے،غیر قانونی چیک پوسٹ بنانےپر طورخم بارڈر کی بندش کا مسئلہ شروع ہوا تھا۔
