پاکستان اور بھارت کو چار روزہ جنگ کتنے ارب ڈالر میں پڑی؟

پاکستان اور بھارت کے مابین جاری رہنے والی چار دن کی لڑائی میں دونوں ممالک کو معاشی طور پر کتنی قیمت ادا کرنا پڑی اس حوالے سے حتمی سرکاری اعداد و شمار تو دستیاب نہیں تاہم دونوں ملکوں میں ہونے والے تبصروں اور اندازوں کے مطابق یہ قیمت کئی سو ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالیہ پاک بھارت ٹاکرے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو زیادہ مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے کیونکہ پاک فضائیہ نے جہاں بھارت کو رافیل سمیت مختلف اقسام کے 6 طیارے گرا کر بڑا جھٹکا لگایا ہے وہیں ڈیڑھ ارب ڈالر کے ایس 400 دفاعی سسٹم کی تباہی نے بھی مودی سرکار کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

ماہرین کے مطابق ’اگرغیر جانبدار طور پر دیکھا جائے تو انڈیا کے رفال لڑاکا طیاروں کو تباہ کرنے کی خبروں کو انٹرنیشنل میڈیا پر بھی کوریج ملی جس سے انڈیا کو پہنچے والے نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘پاکستان کا کہنا ہے کہ فضائی لڑائی میں انڈیا کے چھ طیارے بشمول تین رفال جہازوں کو مار گرایا گیا۔ تاہم انڈیا نے رفال طیارے گرائے جانے اور ان کی تعداد سے متعلق تصدیق تو نہیں کہ البتہ اس متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب میں انڈین ایئر فورس کے سربراہ نے یہ ضرور کہا کہ ’نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں۔‘انڈیا بھی پاکستان کے جنگ طیاروں کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پاکستان اسے یکسر مسترد کر چکا ہے۔

تاہم بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق جنگ کے ابتدائی 48 گھنٹوں میں بھارتی سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹس کی گراوٹ کے باعث 83 ارب ڈالر یعنی تقریباً 23.5 کھرب پاکستانی روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، جو کہ ایک 4.19 کھرب ڈالر کی معیشت کے لیے بڑا دھچکا تھا، جس کی سالانہ برآمدات 821 ارب ڈالر اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ذخیرہ 514 ارب ڈالر ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق اس وقت تک حتمی طور پر لڑائی پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ تو نہیں لگایا گیا لیکن ماضی قریب میں پاکستان کے ساتھ لڑی جانے والی کارگل کی لڑائی کے دوران انڈیا کا ہر روز کا خرچ 14.6 ارب روپے تھا جبکہ پاکستان کا یومیہ خرچ 3.7 ارب روپے تھا جو اب کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ تاہم دوسری جانب پاکستان کے جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کے حوالے سے پاکستانی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بھارت کیساتھ حالیہ کشیدگی کا پاکستان پرکوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑےگا۔ تھوڑے بہت مالی اثر کا انتظام موجودہ بجٹ سے ہی ہو جائے گا۔ نیا بجٹ آنےمیں ابھی تین چار ہفتےباقی ہیں، نئے بجٹ میں دفاعی ضروریات کو یقینی بنانے کے سلسلے میں جو کرنا ہوگا،کیا جائے گا۔

تاہم معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کیلئے جنگ معاشی اعتبار سے کوئی پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوتی اس سے معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ معاشی امور کے ماہر تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری تنازع سے پہلے ہی دونوں ممالک کافی معاشی بوجھ برداشت کر چکے ہیں۔ جبکہ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی لڑائی کے دوران بنیادی اخراجات فضائی حملے، ڈرون کی وسیع تعیناتی اور جنگی تیاری کی بلند سطح پر اٹھتے ہیں۔جنگ میں ناصرف انتہائی مہنگے جنگی جہاز، ڈرون اور میزائل استعمال کیے جاتے ہیں بلکہ افواج کو ہائی الرٹ پر رکھنے پر بھی کثیر اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حالیہ چند روز کی لڑائی دونوں ممالک کو اربوں روپے میں پری ہے جس میں بھارت کو طیاروں اور دفاعی سسٹم کی تباہی کی صورت میں بڑا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

مغربی ممالک کو پہلگام حملے میں TTP کے ملوث ہونے کا یقین کیوں؟

دوسری جانب "بلوم برگ” جیسےممتاز بین الاقوامی میڈیا اداروں، امریکی مالیاتی انٹیلی جنس ایجنسیوں، بھارتی معیشت دانوں، سابق سیکیورٹی اہلکاروں اور عالمی خطرات کا تجزیہ کرنے والی مشاورتی کمپنیوں کے ماہرین نے حالیہ پاک-بھارت مختصر مگر اہم جنگ کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ اگر یہ تنازعہ طویل ہوتا تو بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا۔بلوم برگ نے نشاندہی کی ہےکہ اگر بھارت اور پاکستان امن معاہدے پر متفق ہو جائیں تو خطے کی معیشت میں زبردست ترقی کا امکان  موجودہے۔کیونکہ دونوں ممالک دنیا کی 20 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور دونوں ممالک میں زبان، ثقافت اور سرحدی قربت کے باعث باہمی تجارت کی بھرپور گنجائش رکھتے ہیں۔ اس وقت دو طرفہ تجارت محض 322 ملین ڈالر تک محدود ہے۔”بلوم برگ” نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ اگرچہ فوجی طاقت کے لحاظ سے دونوں ممالک تباہ کن صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اقتصادی طور پر بھارت کے مفادات کئی گنا زیادہ ہیں۔تاہم  ایک اور امریکی مالیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ طویل جنگ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بھارت میں سرمایہ کاری اور سپلائی چین کی منتقلی کے منصوبوں کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

Back to top button