جاسوسی کے الزام میں وزارت دفاعی پیداوار کے چار افسران کو سزائیں

اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار افسران کو روسی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کرنے اور انہیں حساس معلومات مہیا کرنے کے الزام میں قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان نے ریاست اور فوج کی خفیہ دستاویزات ایک غیر ملکی سفارتکار تک پہنچائیں، جو کہ پاکستان کے آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ملزمان نے جو خفیہ معلومات غیر ملکی ایجنٹ کے ساتھ شیئر کیں ان میں پاک فوج کے ہیڈکوارٹرز، وزارت دفاع کے بجٹ اور پاک بحریہ کی جانب سے طیاروں کی خریداری اور ادائیگیوں کی حساس معلومات موجود تھیں۔

خصوصی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جاسوسی کے الزام میں درج مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم صفدر رحمان ہیں جو ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ڈیفنس پرچیز میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ فیصلے کے مطابق ان کے خلاف ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ انہوں نے ریاست اور فوج سے متعلق حساس دستاویزات ایک غیر ملکی ایجنٹ کو فراہم کیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ وزارت دفاعی پیداوار کے چار ملازمین کو آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی دفعہ تین اور دفعہ چار کے تحت سزا دی گئی ہے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق صفدر رحمان کو دس برس قید کی سزا دی گئی جبکہ تنزیل الرحمان، محمد وقار اور محمد طاہر کو پانچ پانچ برس قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔ تاہم اس مقدمے میں نامزد دو افراد کو عدالت نے بری کر دیا کیونکہ انہوں نے کبھی کسی غیر ملکی ایجنٹ یا روسی سفارتکار سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے براہ راست خفیہ معلومات فراہم کیں۔

یاد رہے کہ قانون کے مطابق ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے پر چودہ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی دفعہ تین دشمن کو فائدہ پہنچانے یا دفاعی معاملات، فوج، بحریہ، فضائیہ یا دیگر حساس معلومات فراہم کرنے سے متعلق ہے جبکہ دفعہ چار دشمن ایجنٹ سے روابط رکھنے کے جرم سے متعلق ہے۔ اس مقدمے کے پراسیکیوٹر جواد عادل نے بتایا کہ جن مجرمان کو اس مقدمے میں سزائیں سنائی گئی ہیں انہیں عدالت نے سنہ 2022 سے ضمانتیں دے رکھی تھیں۔ ان کے مطابق یہ مقدمہ 2021 میں درج کیا گیا تھا اور اس میں نامزد اکثر ملزمان کا تعلق وزارت دفاعی پیداوار سے تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت درج چھ مقدمات کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کیسز میں ملزمان کی تعداد کم تھی اس لیے ان کے فیصلے نسبتاً جلدی سنائے گئے۔

جواد عادل کے مطابق اس کیس میں نامزد افراد میں زیادہ تر سویلین تھے تاہم ان میں کرنل رینک کا ایک افسر بھی شامل تھا۔ کیس کی تحقیقات کرنے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس کرنل رینک کے افسر نے اپنے خلاف مقدمے میں نام شامل کیے جانے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جہاں سے انہیں اس حوالے سے ریلیف بھی ملا۔
اس مقدمے کے دیگر ملزمان کے بارے میں عدالتی فیصلے کی مزید تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ صفدر رحمان جس اہم عہدے پر فائز تھے اس کے تقاضوں کے مطابق انہیں کسی بھی غیر ملکی سے رابطہ نہیں رکھنا چاہیے تھا تاہم انہوں نے ایسا کیا۔ فیصلے میں اس غیر ملکی ایجنٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے ساتھ ملزمان کے روابط تھے۔ عدالت کے مطابق مقدمے کے دوران پیش کی جانے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرل کرشنیکوو نامی شخص روسی سفارت خانہ میں سکینڈ سیکریٹری کے طور پر فروری 2020 سے فروری 2023 تک تعینات رہے۔

عدالت نے تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو صفدر رحمان کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد انہیں 18 مئی 2021 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک غیر ملکی ایجنٹ کی گاڑی سے باہر نکل رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت ان کے قبضے سے چار ہزار امریکی ڈالر بھی برآمد کیے گئے۔
تفتیشی ٹیم کے مطابق یہ رقم حساس دستاویزات فراہم کرنے کے عوض وصول کی گئی تھی۔ جس روز صفدر رحمان کو گرفتار کیا گیا اسی روز ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ دوران تفتیش صفدر رحمان نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے دو بیٹوں تفضل الرحمن اور وقار کے ساتھ مل کر غیر ملکی ایجنٹ کو حساس معلومات فراہم کرتے تھے۔ ان کی نشاندہی پر دونوں بیٹوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے بڑی تعداد میں حساس دستاویزات بھی برآمد ہوئیں۔

عدالت کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ہارڈ ڈسکس بھی برآمد کی گئیں جن میں فوج کے ہیڈکوارٹرز، وزارت دفاعی پیداوار کے بجٹ اور بحریہ کے طیاروں کی خریداری کے بعد کی جانے والی ادائیگیوں سے متعلق معلومات موجود تھیں۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ مقدمے میں شامل دیگر ملزمان حساس دستاویزات صفدر رحمان کو فراہم کرتے تھے اور اس کے عوض انہیں پندرہ سے بیس ہزار روپے تک دیئے جاتے تھے۔ یہ مقدمہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ کے تحت نو افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ پراسیکیوٹر جواد عادل کے مطابق ان ملزمان میں ایک حساس ادارے کے افسر عرفان حمید کیانی بھی شامل تھے۔ عرفان حمید کیانی، احمد کیانی اور محمد اشرف نے عدالت میں بریت کی درخواستیں دائر کی تھیں جنہیں منظور کر لیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں اس گاڑی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس سے صفدر رحمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گاڑی کی نمبر پلیٹ اسلام آباد میں رجسٹرڈ تھی تاہم اس کی تصدیق کے لیے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا گیا جس نے بتایا کہ یہ ڈپلومیٹک نمبر اسلام آباد میں قائم روسی سفارت خانے کو الاٹ کیا گیا تھا۔ عدالت کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سفارتکاروں کو عارضی نمبر پلیٹس بھی دی جاتی ہیں۔

ملزمان نے عدالت میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں پیش کیے گئے بارہ گواہان میں سے کوئی بھی آزاد گواہ نہیں تھا بلکہ تمام گواہان کا تعلق وفاقی تحقیقاتی ادارہ سے تھا۔

Back to top button