فرانس نے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان کر دیا

فرانس کے صدر  ایمانوئل میکرون نے جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ یورپی اتحادیوں کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق صورتحال غیر یقینی ہے، فرانس اس بے یقینی کے تناظر میں جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرے گا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنی نئی جوہری ڈٹیرنس پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی صورتِ حال میں فرانس کو اپنی نیوکلیئر صلاحیتیں مضبوط بنانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کو بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف بہتر دفاعی تیاری کرنی ہوگی، خاص طور پر جب امریکی سکیورٹی ضمانتوں میں بے یقینی اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

صدر میکرون نے فرانس کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم صرف دفاعی مقصد کے لیے ہے اور اسے “ہتھیاروں کی دوڑ” کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرانسیسی حکومت اپنی نیوکلیئر صلاحیت کی حقیقی طاقت کو برقرار رکھنے اور مضبوط کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

صدر ٹرمپ کو پچھتانا کیوں پڑے گا؟ حامد میر کی وارننگ

اس نئی حکمت عملی کے تحت فرانس اپنے جوہری ہتھیاروں کے تعاون کو یورپی اتحادیوں تک بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں ممکنہ طور پر نیٹو ممالک کے ساتھ مشترکہ تربیتی مشقیں اور دفاعی مشنز شامل ہوں گے۔ یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فرانس اپنے نیٹو اور یورپی اتحادیوں کے دفاعی ڈھانچے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

فرانس اپنے موجودہ اندازے کے مطابق تقریباً 290 نیوکلیئر وارہیڈز رکھتا ہے، جو اسے دنیا میں چوتھی بڑی جوہری قوت بناتا ہے۔ میکرون نے کہا ہے کہ وہ مزید ہتھیاروں کا اعلان نہیں کرے گا اور نہ ہی تعداد کو عوامی طور پر بیان کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ دشمنوں کے لئے اس کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔

امریکہ اور ایران کی جنگ میں پاکستان بال بال کیسے بچا؟

یہ اعلان عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں بڑھتے ہوئے خطرات اور غیر یقینی صورتحال نے ممالک کو اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔

Back to top button