کالے بچھوؤں کی آن لائن فروخت میں ’لاکھوں کا فراڈ‘

سوشل میڈیا پر نت نئے طریقوں سے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں کینسر سمیت پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے بہانے کالے بچھو کی لاکھوں روپے میں فروخت کی خبروں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر کالا بچھو بیچنے کا یہ دھندہ ایک منظم فراڈ ہے جو شہریوں کی مجبوریوں اور لاعلمی کا فائدہ اٹھاتا ہے جبکہ جھانسے میں آنے والے شہریوں کو لاکھوں روپے گنوا کر بھی کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ماہرین کے مطابق کالے بچھو سے کسی بھی جان لیوا بیماری کا علاج ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بیماری کے مؤثر علاج کے لیے جتنی مقدار میں تریاق درکار ہوتا ہے، وہ کسی ایک بچھو سے حاصل نہیں کی جا سکتا۔ اس مقصد کے لیے لاکھوں بچھو درکار ہوتے ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا پر موجود فراڈیے عوام کی کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اُنہیں دھوکے میں ڈال کر لاکھوں روپے تک کا نقصان پہنچا دیتے ہیں۔

ماہرین کے بقول یہ بات حقیقت ہے کہ بچھو کا زہر واقعی بعض ادویات میں استعمال ہو سکتا ہے لیکن اس کا عمل انتہائی پیچیدہ اور مہنگا ہے کیونکہ ’ایک بچھو سے صرف چند ملی گرام زہر نکلتا ہے۔ اس لئےبڑی مقدار میں زہر کے حصول کے لیے لیبارٹریاں اور لاکھوں بچھو چاہییں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کالے بچھو کے زہر سے اگر کوئی مفید کمپاؤنڈ مل بھی جائے تو اسے مصنوعی طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ یوں مزید زندہ بچھوؤں کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔‘ یعنی اگر کسی بچھو کے زہر کا کوئی کمپاؤنڈ کسی بیماری کے علاج میں مفید ثابت ہو بھی جائے تو فارما کمپنیاں وہی کمپاؤنڈ مصنوعی طریقے سے خود تیار کرسکتی ہیں جس کے بعد مزید بچھوؤں کی ضرورت نہیں رہتی۔
گزشتہ 10سال سے بچھوؤں پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر صاحبزادہ محمد جواد کا ماننا ہے کہ بچھو کا زہر بہت قیمتی ہوتا ہے اور اس کے کارخانے بھی موجود ہیں لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایک یا دو لیٹر زہر تیار کریں گے اور مالا مال ہوجائیں گے؟ اس کے لیے تو آپ کو کم از کم ایک لاکھ تک بچھو پالنے پڑیں گے۔ اس لیے یہ بہت عامیانہ بات ہے کہ ایک کالا بچھو لاکھوں روپے میں فروخت ہو سکتا ہے۔ تاہم  یہ ممکن ہے کہ کوئی بچھو پاکستان میں موجود ہو اور وہ امریکہ یا کسی اور ملک میں نہ ہو تو اس کی قیمت لگائی جا سکتی ہے تاکہ بیرون دنیا اس پر تحقیق کر سکے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے۔‘
تاہم وائلڈ لائف ایکسپرٹ فہد ملک اسے رئیل اسٹیٹ کے فراڈ سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل کالے بچھوؤں کا کاروبار سراسر دھوکہ ہے۔ لوگوں کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ آن لائن وہی بچھو چند ڈالرز میں مل جاتا ہے جسے یہاں لاکھوں میں بیچا جاتا ہے۔ اس کا زہر واقعی قیمتی ہے لیکن اس کے لیے ہزاروں بچھو اور خصوصی سیٹ اپ درکار ہوتا ہے۔ اسے نکالنے کا پورا ایک سائنسی نظام ہوتا ہے، جس میں درجہ حرارت، نمی اور ماحول کے لیے ایک ترتیب درکار ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس سائنسی طریقے کو اپنا کر بچھو سے زہر نکال کر فروخت کرنا ممکن نہیں۔ فہد ملک بتاتے ہیں کہ بیرون ملک مخصوص نایاب اقسام کے بچھو کی قیمت 100 سے 200 ڈالر تک ہو سکتی ہے لیکن پاکستان کے عام کالے بچھو کی کوئی خاص مارکیٹ ویلیو نہیں ہوتی۔ انھوں نے آج تک کسی کو بچھو بیچ کر امیر بنتے نہیں دیکھا۔ فہد ملک کے بقول پاکستان میں نوجوان فوری امیر بننے کے چکر میں سادہ لوح عوام کو لوٹتے ہیں جبکہ کچھ لوگ جھانسے میں آ کر ایک ایک بچھو لاکھوں کا خرید لیتے ہیں لیکن بعد میں جب مارکیٹ جاتے ہیں تو انہیں سمجھ آ جاتا ہے کہ وہ تو لٹ چکے ہیں تاہم اس وقت انھیں سوائے پچھتاوے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

Back to top button