سائبر کرائمز والے فراڈیے بھی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ریڈار پر

 

 

 

 

ریپ، ہراسانی، منشیات فروشی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے بعد اب شہریوں سے آن لائن فراڈ کرنے والے بھی پنجاب پولیس کے نئے شعبے سی سی ڈی کے ریڈار پر آگئے۔ پنجاب حکومت نے سی سی ڈی کو صوبے بھر میں سائبر فراڈ میں ملوث ملزمان کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کے واضح احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عوام کو لوٹنے والے ملزمان کی دھلائی اور ٹھکائی یقینی ہو گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ پنجاب میں ہر گزرتے دن کے ساتھ آن لائن اور ٹیلی فون پر فراڈ کرنے والوں کے خلاف شکایات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا جبکہ پولیس کو سائبر کرائمز میں ملوث ملزمان کیخلاف مقدمات درج کرنے اور تحقیقات میں مشکلات کا سامنا تھا۔ جس پر یہ معاملہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سامنے پیش کیا گیا۔ جنہوں نے تمام شکایات اور اعدادوشمار کا جائزہ لینے کے بعد سائبر کرائم سے نمٹنے کی ذمہ داری بھی سی سی ڈی کو سونپ دی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو مواصلاتی نظام کے ذریعے فراڈ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے لیے واضح اختیارات اور اہداف دئیے گئے ہیں۔ ان ہدایات کے بعد آن لائن اور ٹیلی فون فراڈ سے متعلق بڑی تعداد میں شکایات کا ڈیٹا سی سی ڈی کو موصول ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ ڈیٹا صرف تھانوں سے ہی جمع نہیں کیا گیا بلکہ مختلف آن لائن فورمز پر متاثرین کی جانب سے درج کی گئی شکایات اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی پوسٹس کو بھی شامل کیا گیا ہے، جن کی اب تفصیلی چھان بین کی جا رہی ہے۔ سی سی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات پر باقاعدہ کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے اور آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔

بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارتکار واپس آنے سے انکاری 

اس حوالے سے سی سی ڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آن لائن جرائم میں ملوث عناصر میں وائٹ کالر مجرم بھی شامل ہیں، جو مبینہ طور پر اربوں روپے کی خردبرد میں ملوث رہے ہیں اور تاحال سرگرم ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایسے عناصر کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ قانون کے مطابق مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس سے قبل آن لائن اور سائبر جرائم کی تحقیقات بنیادی طور پر وفاقی ادارہ ایف آئی اے انجام دے رہا تھا، جو بدستور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔ تاہم اب سی سی ڈی بھی اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے سائبر کرائم میں ملوث فراڈیوں کے خلاف کارروائی کرے گا، کیونکہ اس کے پاس صوبہ بھر میں پھیلا ہوا وسیع نیٹ ورک اور ضروری وسائل موجود ہیں، جو اس چیلنج سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ سی سی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ آن لائن فراڈ میں منظم اور بااثر نیٹ ورکس ملوث ہیں، جن میں بعض کال سینٹرز کے شامل ہونے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سی سی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ آئندہ چند روز میں فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جن میں ممکنہ طور پر بڑے نیٹ ورکس چلانے والے اہم کردار بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق منشیات فروشوں، اشتہاریوں اور جنسی بھیڑیوں کے بعد شہری جلد فراڈیوں کے خلاف جاری مہم کے عملی نتائج دیکھیں گے اور آن لائن لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی سامنے آئے گی۔

Back to top button