فری ٹریڈ یا فری فال؟پاکستانی معیشت کا مستقبل ٹرمپ کے ہاتھ میں کیوں؟

تمام تر دعوؤں اوراعلانات کے باوجود پاکستان تاحال امریکہ سے ٹیرف ریلیف بارے کوئی بھی معاہدہ کرنے میں یکسر ناکام دکھائی دیتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق  امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان کو ٹیکسٹائل برآمدات، روزگار، کرنٹ اکاؤنٹ اور زرِ مبادلہ میں بھاری دھچکا لگ سکتا ہے۔ معاہدہ نہ ہونے پر امریکی برآمدات پر 29 فیصد ٹیرف کی بحالی پاکستان کی کمزور معیشت پر ایسا بوجھ ڈال سکتی ہے جس کا خمیازہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق دیکھا جائے تو حقیقت میں پاکستانی معیشت اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ جہاں امریکہ سے فری ٹریڈ معاہدہ پاکستانی معیشت کیلئے گیم چینجز ثابت ہو سکتا ہے وہیں تجارتی معاہدے میں ناکامی ملکی معیشت اور برآمدات کا کباڑہ بھی کر سکتی ہے، اب دیکھنا ہو گا آنے والے دنوں میں اس حوالے سے کیا اطلاعات سامنے آتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ نے پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف لگایا تھا جسے نو جولائی 2025 تک عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ اس دوران یہ توقع کی جا رہی تھی کہ امریکہ کے ساتھ ایک ایسا تجارتی معاہدہ کیا جاسکے گا جس کا فائدہ امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک کو ہو سکے۔ڈیڈلائن ختم ہونے میں صرف چند دن باقی ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے نہ تو کوئی معاہدہ ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی واضح صورت سامنےآئی ہے۔

پاک امریکہ ٹیرف معاہدے بارے گفتگو کرتے ہوئے سابق حکومتی مشیر ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ اعلان کیا ہے کہ وہ صرف ان ممالک پر ٹیرف لگا رہے ہیں جو امریکی مصنوعات پر ٹیکس لگاتے ہیں۔ پاکستان امریکہ سے تقریبا ایک ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جس پر تقریبا 15سے 20 کروڑ ڈالر ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔ ’اگر پاکستان اعلان کر دے کہ وہ امریکہ کی تمام درآمدات کو ٹیکس فری کر رہا ہے تو پاکستان کو تقریبا 15 سے 20 کروڑ ڈالر ٹیکس کم اکٹھا ہو گا لیکن اس کے بدلے پاکستان کی امریکہ برآمدات 12 ارب ڈالرز تک بڑھ سکتی ہیں۔ 20 کروڑ لگا کر اگر چھ ارب ڈالرز کما لیے جائیں تو یہ کوئی بری ڈیل نہیں ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ  ’فری ٹریڈ معاہدہ کرنے کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کو لنچ کروا رہے ہیں اور مشاورت کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انڈیا کی شدید مخالفت کے باوجود ہر دوسرے دن پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔  ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ کی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ پاکستان میں معاہدہ بھی ہو گیا ہے۔ ’یہ سنہرا وقت ہے، اگر اس دور میں بھی امریکہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ نہیں ہو سکتا تو پھر شاید کبھی بھی نہیں ہو سکے گا۔

تاہم سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلیمان شاہ کے مطابق ’اگر ملکوں کے ساتھ پاکستانی برآمدات کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان سب سے زیادہ ٹیکسٹائل برآمدات امریکہ کو کرتا ہے۔ پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپورٹ انڈسٹری ٹیکسٹائل ہے جس کا تقریبا 90 فیصد سے زائد امریکہ سے جڑا ہے۔  حکومتی دعوؤں کے برعکس اگر اب بھی امریکہ سے ٹریڈ معاہدہ نہیں ہوتا تو 29 فیصد ٹیرف لگنے سے پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں، ٹیکسٹائل انڈسٹری مزیر بند ہو سکتی ہے اور ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس ڈیل میں پاکستان کو امریکی خام تیل خریدنا پڑ سکتا ہے اور پاکستانی معدنیات میں امریکی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔ اگر نو جولائی سے قبل بہتر پیش رفت ہو گئی تو ممکنہ طور پر ڈیڈ لائن میں توسیع ہو سکتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر مہربان ہیں۔ اسٹریٹجک سطح پر ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ امید ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان بہتر معاہدہ جلد ہو جائے گا اور 29 فیصد ٹیکس لگانے کی بجائے پاکستان کو دیگر ممالک کی نسبت بہتر پیکیج مل سکتا ہے۔لیکن اگر امریکہ سے ٹیرف معاہدہ نہیں ہوتا تو پاکستان کا بڑا مالی نقصان ہو سکتا ہے۔

بعض دیگر معاشی ماہرین کے مطابق امریکہ سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ نہ ہونے سے پاکستان کے 10 بڑے ٹیکسٹائل گروپس کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے کیونکہ پاکستانی کمپنیوں کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ امریکہ ہے۔ان سب کے آوٹ لٹس اور آفس امریکہ میں بھی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پراگر ٹاپ ٹین ٹیکسٹائل گروپ متاثر ہوئے تو نہ صرف ملک کا جی ڈی پی مزید کم ہو گا بلکہ اس سے ملک میں بےروزگاری بھی مزید بڑھ جائے گی جبکہ کئی کمپنیاں اپنا کاروبار بھی پاکستان سے بیرون ملک منتقل کر لیں گی۔

Back to top button