فرینچ نیول کمانڈر نے انڈیا کے رافیل جہاز گرنے کی وجہ بتا دی

فرانسیسی بحریہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے ان پاکستانی دعووں کی تصدیق کر دی ہے کہ بھارت کے ساتھ فضائی جھڑپ میں انڈین ائیر فورس کے فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے مار گرائے گئے تھے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی طیاروں کی تباہی کی بڑی وجہ چینی جے ٹین سی جہازوں کی تکنیکی برتری نہیں بلکہ پاکستانی پائلٹس کی غیر معمولی مہارت تھی۔
فرانسیسی کمانڈر واشنگٹن میں منعقد ہونے والی انڈو پیسیفک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں 32 ممالک کے 55 وفود شریک تھے۔ یہ ایونٹ انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ سٹڈیز اِن نیشنل ڈیفنس نے منسٹری آف یورپ اینڈ فارن افیئرز کے تعاون سے منعقد کیا۔
سینیئر صحافی حامد میر کے مطابق فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر کیپٹن ژاک لائونی نے انڈو پیسیفک کانفرنس کے مندوبین کو بتایا کہ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب، جب 140 پاکستانی اور بھارتی جنگی طیارے آمنے سامنے فضا میں موجود تھے، تب پاکستانی فضائیہ کے پائلٹس نے نمایاں مہارت اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق تب صورتحال اس قدر پیچیدہ تھی کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ ایک ہی وقت میں اتنی بڑی تعداد میں دو نیوکلیئر ممالک کے جنگی طیارے بیک وقت فضاؤں میں محوِ پرواز تھے۔ ہر جنگی طیارہ دوسرے کا ممکنہ ہدف بن چکا تھا کیونکہ دونوں جانب سے فضا میں موجود جہازوں کی تعداد 140 تھی۔
تاہم کیپٹن لائونی کے مطابق پاک فضائیہ نے اپنی حریف فضائیہ کے مقابلے میں پیچیدہ منظرنامے کو بہت بہتر انداز سے سنبھالا۔ پاک بھارت جنگ کے دوران رافیل طیاروں کے ریڈار سسٹم کی ناکامی سے متعلق سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مسئلہ تکنیکی نہیں بلکہ خالصتاً آپریشنل نوعیت کا تھا۔ رافیل طیارے میں کوئی خرابی نہ تھی، اصل مسئلہ اسے چلانے والی ٹیم کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کا بنایا ہوا رافیل لڑاکا جہاز نہ صرف چینی جے ٹین سی کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ جنگ میں اسے شکست دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
فرانسیسی کمانڈر کی گفتگو کے دوران جب ایک بھارتی مندوب نے مداخلت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان کا بھارتی رافیل طیارے گرانے کا دعوی چین کی پھیلائی گئی غلط اطلاع پر مبنی ہے تو کیپٹن لائونی نے اس اعتراض کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا تجزیہ جاری رکھا۔
یاد رہے کہ کیپٹن ژاک لائونی گزشتہ پچیس برس سے رافیل طیارے اڑا رہے ہیں اور اس وقت ایک ایسی ائیر بیس پر آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں جہاں جوہری اسلحے سے لیس 40 رافیل طیارے، 94 نیول جنگی بحری جہاز، 10 جوہری آبدوزیں اور 190 ایئرکرافٹ تعینات ہیں۔ وہ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ میں مختلف عسکری آپریشنز کا حصہ رہ چکے ہیں اور حال ہی میں ایک جوہری میزائل تجربے میں بھی شامل تھے۔
بھارت تکنیکی مسائل کا شکار تیجس طیارہ دبئی ائیر شو میں کیوں لایا؟
کیپٹن لائونی نے بتایا کہ بھارت اب رافیل لڑاکا طیارے کا بحری ورژنز خریدنے میں دلچسپی لے رہا ہے یعنی وہ جنگی جہاز جو سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری بیڑے پر لینڈ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ نیول ورژن جوہری میزائل اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور فرنچ بحریہ دنیا کی واحد بحری قوت ہے جو طیارہ بردار بحری بیڑے پر جوہری میزائل تعینات کر سکتی ہے۔ توقع ہے کہ بھارتی پائلٹس کو کیپٹن لائونی کے اسی نیول بیس پر تربیت دی جائے گی، جہاں وہ حال ہی میں جوہری میزائل تجربے میں مصروف تھے۔ اس بیس پر جوہری اسلحے سے لیس 40 سے زائد رافیل طیارے موجود ہیں اور یہ مرکز فرانس کی جوہری صلاحیت رکھنے والی نیول ایوی ایشن کا بنیادی تربیتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
