عثمان بزدار سے سہیل آفریدی تک، بشری بی بی اصل فیصلہ ساز

 

 

 

عمران خان نے اپنے مشکل وقت کے ساتھی علی امین گنڈاپور کو ہٹا کر نوجوان رکنِ اسمبلی سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بنانے کا فیصلہ اپنی تیسری اہلیہ بشری بی بی کے کہنے پر کیا ہے جنہوں نے ماضی میں عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلی بنوایا تھا۔ باخبر پارٹی ذرائع کے مطابق بشری بی بی نے عمران خان کو یقین دلایا ہے کہ سہیل آفریدی گنڈاپور کے برعکس ان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوں گے اور انہیں جیل سے رہا کروانے کے لیے بھرپور تحریک چلائیں گے۔ پنکی پیرنی کی جانب سے خان کو یہ یقین بھی دلایا گیا ہے کہ وہ سہیل آفریدی پر آنکھیں بند کر کے اندھا اعتماد کر سکتے ہیں۔

 

پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کی نظر میں سہیل آفریدی کا سب سے پلس پوائنٹ یہ ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے نفرت کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری سے پہلے بشری بی بی کافی عرصہ خیبر پختون خواہ ہاؤس پشاور میں قیام پذیر رہیں جس دوران سہیل آفریدی انکے کافی قریب آ گئے تھے۔ وہ گنڈاپور کے خلاف ہونے کی وجہ سے بشری بی بی کے مخبر خاص کا فریضہ سرانجام دیتے ہوئے انکے رازدان بن گئے تھے۔ آفریدی پر بشری بی بی کے اعتماد کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ زمانہ طالب علمی میں مراد سعید کے نیچے کام کرتے رہے ہیں چنانچہ اس ریفرنس کی وجہ سے وہ بہت کم عرصے میں بشری بی بی کے قریب آ گئے۔ پچھلے نومبر میں جب بشری نے پشاور سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کیا تو ان کے ٹرک کی سکیورٹی کی ذمہ داری بھی آفریدی اور ان کے ساتھی ہی سر انجام رہے تھے۔

 

نامزد وزیراعلی خیبر پختون خواہ اپنے قائد عمران خان کی طرح طالبان سے ہمدردی کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنز اور ڈرون حملوں کے سخت مخالف ہیں اور ماضی میں اس سلسلے میں ہونے والے کئی احتجاجی مظاہروں کی قیادت کر چکے ہیں۔ سہیل آفریدی نے سیاست کا آغاز اسلامی جمعیت طلبہ کے پلیٹ فارم سے کیا تھا جسکے بعد وہ پی ٹی آئی کی انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔

 

36 سالہ محمد سہیل آفریدی خیبر پختونخوا کے اُبھرتے ہوئے نوجوان سیاست دانوں میں سے ایک ہیں، جن کا تعلق قبائلی ضلع خیبر سے ہے، وہ 2024 کے انتخابات میں آزاد حیثیت سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 70، خیبر ٹو سے پہلی بار رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ سہیل 12 جولائی 1989 کو قبائلی ضلع خیبر کے بااثر آفریدی قبیلے میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کی، ان کا خاندان ٹرانسپورٹ بزنس سے وابستہ ہے۔ وزارت اعلی کے لیے نامزد ہونے والے سہیل نے معاشیات میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے 2015 میں اسلامی جمعیت طلبہ سے  علیحدگی اختیار کر لی جس کے بعد وہ پشاور یونیورسٹی میں انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن  کے صدر بنا دیے گئے۔ دو برس بعد وہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن پشاور ریجن کے صدر بنا دیے گئے۔ اس کے بعد وہ تحریک انصاف کی طلبہ ونگ کے صوبائی صدر نامزد ہو گئے۔ 2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے پی کے 70 سے تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیا اور واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی کابینہ میں انہیں پہلے مشیر برائے مواصلات و تعمیرات کا عہدہ دیا گیا۔

 

سہیل آفریدی کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ بطور وزیر انھوں نے صوبے میں ٹوٹی سڑکوں کی مرمت کے لیے ایک جامع نظام متعارف کرایا، اسکے علاوہ انہوں نے عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ای-کھلی کچہری کا آغاز کیا۔ حال ہی میں جب علی امین گنڈاپور نے اپنی کابینہ سے دو وزرا کو فارغ کیا تو سہیل آفریدی سے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو واپس لے کر انہیں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا قلمدان دے دیا گیا تھا۔

 

سہیل آفریدی نے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد تحریک انصاف کے ایک فعال اور متحرک کارکن کے طور پر خود کو منوایا۔ اس دوران جب پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت روپوش تھی، تو سہیل آفریدی نے کارکنوں سے رابطہ برقرار رکھا اور ان کے حوصلے بلند کیے۔ تاہم ان کی خوش قسمتی یہ رہی کہ وہ 9 مئی کے کسی بھی حملے کی ایف ائی آر میں نامزد نہیں ہوئے۔ تاہم ان کے خلاف احتجاج اور تور پھوڑ کے الزامات پر اسلام آباد کے چھ تھانوں میں مختلف کیسز درج ہیں۔ ان کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے خیبر ضلع اور پشاور کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

 

سہیل آفریدی، سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کے بہت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ہر سیاسی محاذ پر ان کے ساتھ رہے بلکہ مختلف مواقع پر ان سے سیاسی مشاورت بھی کرتے رہے۔ جولائی 2024 میں سہیل آفریدی نے خیبر پختون خوا اسمبلی میں مراد سعید کے حق میں قرارداد پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انہیں امن بحالی کی کوششوں کے اعتراف میں تمغۂ شجاعت دیا جائے۔

قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ مراد سعید کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔

کیا گنڈاپور کو ہٹا کر عمران نے اسٹیبلشمنٹ کو دھچکا پہنچایا ہے؟

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بطور وزیراعلی سہیل آفریدی کی کامیابی کے امکانات معدوم نظر ہیں چونکہ انہیں گنڈاپور کے برعکس گورننس کا کوئی تجربہ نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی چلانے کے لیے صرف وفاداری نہیں بلکہ اہل ہونا بھی ضروری ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ماضی میں بشری بی بی نے عمران خان کو عثمان بزدار کا تحفہ پیش کیا تھا جن کا اب دور دور تک کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا۔ اسی وجہ سے آج پنجاب میں تحریک انصاف کا تنظیمی ڈھانچہ فارغ ہے اور وہ کمزور ترین پوزیشن میں ہے۔ ایسے میں ایک نا تجربہ کار نوجوان کو خیبر پختون خواہ جیسے مشکل صوبے کا وزیر اعلی بنانا نہ صرف پارٹی بلکہ صوبے کے عوام سے بھی زیادتی کے مترادف ہے۔

Back to top button