ایندھن بچت اقدامات: حکومت سندھ کا سکول دو ہفتے بند رکھنے کا فیصلہ

 

 

 

حکومت سندھ نے خطے کی موجودہ صورت حال اور توانائی بحران کے پیش نظر سکول 16 سے 31 مارچ تک بند رکھنے اور سرکاری اداروں میں جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بتایاکہ صوبائی وزرا نے تین ماہ تک تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اپریل،مئی اور جون کی تنخواہیں نہیں لی جائیں گی۔صوبے بھر میں سکول 16 سے 31 مارچ تک بند رہیں گے تاہم امتحانات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی منعقد ہوں گے۔

صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاکہ جمعہ کو سرکاری دفاتر میں مکمل تعطیل نہیں ہوگی بلکہ ملازمین گھروں سے کام کریں گے۔ وزرا نے پولیس سکیورٹی کےلیے دی گئی گاڑیاں واپس کردی ہیں جب کہ نئی سرکاری گاڑیوں اور فرنیچر کی خریداری پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں دو ماہ کےلیے ریفریشمنٹ پر بھی پابندی لگادی گئی ہے۔

کیا ڈنگ ٹپاؤ پالیسی حکومت کو عوامی غضب سے بچا پائے گی؟

شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ایندھن کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔اس حوالے سے کل ٹرانسپورٹرز کے ساتھ اجلاس بھی ہوگا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام متاثر ہوئےہیں اور جن ٹرانسپورٹرز نے ازخود کرائے بڑھائے، ان کےخلاف کارروائی کی گئی ہے جب کہ بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

Back to top button