بھگوڑے میجر عادل راجہ کے لندن ہائی کورٹ میں ISI پر بڑے الزامات

پاکستان سے فرار ہو کر لندن جا بسنے والے بھگوڑے میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے ایک برطانوی عدالت میں پیشی کے دوران دوبارہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس اسے قتل کرنا چاہتی ہے، تاہم جج نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے ریٹائرڈ میجر پر واضح کیا کہ وہ ہت کے عزت کیس کا ملزم ہے لہذا معاملے کو اپنی ذات سے ہٹا کر پاکستانی خفیہ ایجنسی کی طرف لے جانے کی غیر ضروری کوشش نہ کرے۔
خیال رہے کہ میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے خلاف آئی ایس ائی پنجاب کے سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر نے جھوٹے الزامات کے ذریعے کردار کشی کے الزام پر برطانوی عدالت میں ہتک عزت کا کیس دائر کر رکھا ہے۔ عادل راجہ عدالت میں پیش ہونے سے انکاری ہے اور ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کاروائی کا حصہ بنتا ہے۔ کیس کی تازہ سماعت کے دوران بریگیڈیئر راشد نصیر کے وکیل نے جرح کے دوران میجر ریٹائرڈ عادل راجہ سے پوچھا کہ اس نے یہ دعویٰ کیوں کیا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی انہیں برطانیہ میں قتل کرنا چاہتی ہے، حالانکہ یوکے پولیس کی طرف سے لکھے گے لیٹر میں صرف ان کی جان کو خطرے کا ذکر تھا، اس لیٹر میں کسی قتل کی سازش یا آئی ایس آئی کا ذکر نہیں تھا۔ اس پر عادل راجہ نے کہا کہ اگرچہ لیٹر میں پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ذکر موجود نہیں، لیکن مجھے کوئی شک نہیں کہ کون مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔ وکیل نے کہا کہ آپ مبالغہ آرائی کر رہے ہیں اور جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ پاکستان کی آئی ایس آئی اور فوج آپ کو قتل کرنا چاہتی ہے، سراسر جھوٹ ہے۔عادل راجہ نے جواب میں کہا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنے ذرائع گھڑ رہا ہوں؟ بریگیڈیر راشد کے وکیل نے راجہ سے پوچھا کہ آپ لندن میں بیٹھ کر فون کے ذریعے پاکستان سے کسی خبر کی تصدیق کیسے کر سکتے ہیں۔ جواب میں عادل راجہ نے کہا کہ میں جو کچھ رپورٹ کرتا ہوں وہ پاکستان کی زمینی حقیقتوں پر مبنی ہوتا ہے اور میری ساکھ میرے ذرائع کی سچائی پر ہے۔
سابق پاکستانی فوجی میجر نے برطانوی ہائی کورٹ کو بتایا کہ ان کے دعوے اور سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) راشد نصیر کے بارے میں ان کی سوشل میڈیا پوسٹیں عوامی مفاد میں تھیں۔ اس پر ٹرائل کورٹ کے جج نے واضح کیا ہےکہ انٹر سروسز انٹیلی جنس کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ دو افراد، یعنی عادل راجہ بمقابلہ راشد نصیر کا مقدمہ ہے۔ راشد نصیر کے وکیل اور لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ سپیئرمن نے عادل راجہ سے ان کی صحافتی سرگرمیوں کے طریقہ کار اور ان 9 سوشل میڈیائی دعوؤں بارے سوال کیے جن کی بنیاد پر راشد نصیر نے ہتک عزت کا کیس دائر کیا ہے۔ راجہ نے تسلیم کیا کہ اس نے الزامات کے حق میں کوئی دستاویزی ثبوت نہیں دیا، لیکن اس نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گمنام ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، جو ان کے مطابق انٹیلی جنس سروسز اور حکومت میں اعلیٰ سطح پر موجود افراد ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے دعوے عوامی مفاد میں تھے اور انہوں نے انکو شائع کرنے سے پہلے تصدیق اور جانچ پڑتال کا عمل مکمل کیا تھا۔
جب میجر عادل راجہ نے الیکشن میں دھاندلی اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار بارے الزامات کی بات کی تو جج نے کہا کہ یہ کیس پاکستانی سیاست کی "بڑی تصویر” پر بات کر کے نہیں جیتا جا سکتا کیونکہ الزامات راشد نصیر نامی شخص بارے ہیں۔ راشد نصیر کے وکیل ڈیوڈ لیمر نے تقریباً پورا دن عادل راجہ سے جرح کی اور ان ٹویٹس، یوٹیوب اور فیس بک ویڈیوز کے بارے میں سوالات کیے جو انہوں نے شائع کی تھیں۔ عادل راجہ نے ان سوشل میڈیا پوسٹوں میں راشد نصیر کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے۔ اس نے الزامات لگایا کہ راشد نصیر کو لاہور ہائی کورٹ پر مکمل کنٹرول حاصل تھا جس کے باعث پنجاب میں 2022 کے انتخابات نہیں ہو سکے۔ انہوں نے آصف علی زرداری سے ملاقاتیں کیں تاکہ انتخابی دھاندلی پر بات ہو سکے۔ وہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کے خلاف کام کر رہے تھے۔ وہ فوجی اور انٹیلی جنس افسران کی انتخابی دھاندلی کی ایک منظم سکیم کا حصہ تھے۔ وہ اپنے عہدے کا غلط استعمال کر رہے تھے۔۔وہ بھاری رقوم استعمال کر کے پی ڈی ایم کی جیت کو یقینی بنا رہے تھے۔وہ پی ٹی آئی کے حامیوں کو ہراساں کر رہے تھے۔ انہوں نے عادل راجہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔
جب راشد نصیر کے وکیل کی جانب سے الزامات بارے پوچھا گیا تو عادل راجہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے جو کچھ کہا وہ حکومت اور خفیہ انٹیلی جنس ایجنسی کے باوثوق ذرائع نے انہیں بتایا اور یہ کہ انہوں نے یہ مواد شائع کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کی تھی۔
اس پر برطانوی جج نے عادل راجہ سے پوچھا کہ انہوں نے ان بیانات کو سوشل میڈیا پر شائع کرنے سے پہلے کون سے اقدامات کیے، ان کے ذرائع حاصل کرنے، تصدیق کرنے، جانچنے اور مستند بنانے کے کیا طریقے تھے اور سب سے اہم یہ کہ آیا انہوں نے ان معلومات کا کوئی تحریری ریکارڈ رکھا یا نوٹس لیے۔راجہ نے جواب دیا کہ "میری خبروں کے ذرائع برطانیہ اور پاکستان میں ہیں۔ میں ان کی حفاظت کے لیے تہہ در تہہ طریقہ کار استعمال کرتا ہوں۔ پاکستان سے معلومات خفیہ طریقے سے برطانیہ میرے پاس پہنچتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ذرائع کو ہراسانی سے بچانے کے لیے ایسا کرتے ہیں، کیونکہ وہ ذرائع حکومت اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں، اور ان کی شناخت ظاہر کرنے سے ان کے اغوا یا تشدد کا خدشہ ہے۔ عادل راجہ نے جج کو سکرین پر دو نوٹ بکس دکھائیں اور کہا کہ انہوں نے ذرائع سے موصولہ خبروں کا تحریری ریکارڈ رکھا ہے، لیکن جب جج نے راجہ سے پوچھا کہ آیا وہ انہیں جون 2022 میں کی گئی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ بارے کوئی نوٹس دکھا سکتے ہیں ہیں، تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے کوئی نوٹس نہیں۔
