عمران کی توشہ خانہ میں لوٹ مار کی مکمل تفصیل جاری

معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے سابق وزیر اعظم عمران خان پر سرکاری توشہ خانہ کی لوٹ مار کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی تصدیق کرتے ہوئے مزید تفصیلات جاری کردی ہیں۔ سابق فوجی ترجمان عاصم سلیم باجوہ کا پاپا جونز کرپشن سکینڈل بے نقاب کرنے والے فیکٹ فوکس کی تحقیق کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرٰی بی بی کو بیرون ملک دوروں کے دوران 142 ملین، یعنی 14 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کے تحائف ملے۔ لیکن ریاست مدینہ کے نام نہاد خلیفہ عمران خان اور ان کی روحانیت پرور اہلیہ بشری بی بی نے یہ تحائف توشہ خانہ میں جمع کرانے کی بجائے محض چار کروڑ روپے سے بھی کم رقم ادا کر کے خود رکھ لئے۔

ان تحائف میں رولیکس اور دیگر قیمتی گھڑییاں، سونے اور ہیرے جڑے ہوئے زیورات جن میں متعدد ہار، بریسلٹس، انگوٹھیاں، کئی ہیرے کی زنجیریں شامل ہیں سونے کا قلم، لاکھوں روپوں کی مالیت کے کف لنکس، ڈنر سیٹ، پرفیومز اور عود خوشبو تک شامل ہیں۔
فیکٹ فوکس کے مطابق یہ تمام تحائف مختلف ممالک کے سربراہان اور دیگر عہدیداران کی طرف سے اصولا حکومتِ پاکستان کو ملے لیکن عمران اور ان کی اہلیہ انکو توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے سیدھے گھر لے گئے۔ان تحائف میں سب سے قیمتی تحفہ وہ گھڑی ہے جو عمران خان کو 18 ستمبر 2018 کو کیے جانے والے پہلے دورہِ سعودی عرب کے موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے بطور تحفہ دی تھی۔ گھڑی کی مالیت ساڑھے آٹھ کروڑ روپے ہے لیکن عمران خان نے صرف ایک کروڑ اور ستر لاکھ کی معمولی رقم دے کر گھڑی خود رکھ لی۔ بعد ازاں یہ گھڑی دبئی میں فروخت کر کے 7 کروڑ روپے منافع کمایا گیا۔

عمران خان نے ٹیکس حکام سے یہ قیمتی تحائف چھپائے رکھے۔ تاہم انہوں نے جلدی میں اپنے 2020 کے ٹیکس گوشواروں میں توشہ خانہ سے حاصل کئے جانے والی قیمتی گھڑی کا ذکر تب کیا جب یہ خبر ایک بڑے کرپشن اسکینڈل کے  طور پر سامنے آئی۔ عمران نے 2018 سے 2021 تک تین سالوں کے جمع کئے جانے والے ٹیکس گوشواروں میں توشہ خانے سے لئے جانے والے تحائف کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ عمران خان کی اہلیہ بشرٰی بی بی نے اس دوران ٹیکس ریٹرنز جمع ہی نہیں کروائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بشرٰی بی بی نے پوری زندگی کبھی بھی کوئی ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کروائے اور خود کو پہلی مرتبہ جولائی 2021 میں ٹیکس اداروں  ساتھ رجسٹرڈ کروایا۔  کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق عمران نے 142 ملین روپوں کی مالیت کے تحائف صرف 38 ملین روپے کی معمولی رقم ادا کر کے حاصل کئے۔ انہوں نے آٹھ لاکھ مالیت کے تحائف توشہ خانہ سے مفت میں حاصل کئے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ توشہ خانہ میں صرف ان تحائف کی تفصیلات درج اور محفوظ کی جاتی ہیں جو وزیرِاعظم کے پروٹوکول آفیسر نے بذاتِ خود وصول کر کے کر وزیر اعظم کے حوالے کئے ہوں۔ بہت سے ایسے تحائف بھی ہیں جو پروٹوکول آفیسر کی غیر موجودگی میں عمران خان کو دیئے گئے۔ ان تحائف کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔

فیکٹ فوکس کی جانب سے توشہ خانہ سے حاصل کیے جانے والے تحائف کی جو مکمل فہرست سامنے لائی گئی ہے اس میں سعودی شہزادے کی طرف سے عمران خان کو دی جانے والی  گولڈ پلیٹڈ کلاشنکوف  شامل نہیں ہے جو بقول مریم اورنگزیب کے غائب کی جا چکی ہے اور اس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ بیرونی ممالک کے عہدیداران کی جانب سے پاکستانی سیاستدانوں اور افسروں کو جو تحائف ملتے ہیں انھیں توشہ خانہ میں جمع کروانے کی ایک دیرینہ روایئت رہی ہے لیکن عمران خان اور بشرٰی بی بی نے اس روایت کی دھجیاں اٹھا دیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ پچھلے ڈیڑھ برس سے عمران خان توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیل دینے سے انکاری تھے۔ یاد رہے کہ پچھلے برس جب توشہ خانہ سے عمران کی جانب سے قیمتی تحائف لینے اور انھیں باہر بیچ دیئے جانے کی خبریں پھیلیں تو رانا ابرار خالد ایک شہری نے  اطلاعات تک رسائی کے قانون کے تحت کابینہ ڈویژن کو درخواست دی جس میں عمران کے توشہ خانہ سے لئے گے تحائف کی فہرست اور ان کی قیمت کی معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جب کابینہ ڈویژن نے کسی بھی قسم کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا تو ابرار خالد نے پاکستان انفارمیشن کمیشن میں درخواست دائر کی۔

21 جنوری 2021 کو انفارمیشن کمیشن کی طرف سے کابینہ ڈویژن کو ہدایات جاری کیں کہ توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات شہری کو فراہم کی جائیں۔  فیکٹ فوکس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب توشہ خانہ سکینڈل زبان زدِعام ہو گیا تو عمران نے 2020 اور 2021 کے ریٹرنز 21 ستمبر 2021 کو جمع کروائے جو کہ ان کی پچھلے سالوں کے ریٹرنز جمع کروائے جانے والی تاریخوں کے مقابلے میں بہت جلدی کروائے گئے۔ ان ریٹرنز میں "ایک قیمتی توشہ خانہ آئٹم” کے نام سے اس تحفہ کا ذکر کیا گیا جسکی مالیت 11 ملین روپے لکھی گئی۔ عمران اور ان کی اہلیہ بسری کو جو تحائف بیرون ممالک سے ملے اور جو انھوں نے اپنے پاس رکھے ان کی قیمت اور وہ پیسے جو عمران نے ان تحائف کے لئے ادا کیئے، انکی تفصیل کچھ یوں ہے:

ایک جینٹس رولیکس گھڑی، مالیت نو لاکھ روپے ؛ ایک خواتین کی رولیکس گھڑی، مالیت چار لاک روپے؛ ایک آئی فون مالیت دولاکھ دس ہزارروپے؛ دو مردانہ کپڑوں کے جوڑے مالیت تیس ہزار روپے، ڈولسے اور گابا کا ایک پر فیوم مالیت تیس ہزار روپے، دو پرفیومز مالیت بالترتیب تیس اور چھبیس ہزار روپے؛ ایک روبی پرفیوم مالیت چالیس ہزار روپے، مونٹ بلانک بال پواٗئنٹ ؛مالیت اٹھائیس ہزار روپے؛ یہ تحائف 9 نومبر 2018 تک موصول ہوئے۔ یہ تمام تحائف خان صاحب نے تین لاکھ، اڑتیس ہزار، چھ سو روپے کی معمولی رقم ادا کر کے خود رکھ لئے۔

رولیکس کی ایک گھڑی جس کی قیمت اڑتیس لاکھ روپے تھی، سات لاکھ چون ہزار روپے دے خان صاحب نے خود رکھ لی۔ اسی طرح یکم اکتوبر 2018 کو رولیکس کی دوسری گھڑی بطور تحفہ موصول ہوئی موصول ہوئی جس کی قیمت پندرہ لاکھ روپے تھی اور موصوف نے صرف دو لاکھ چرانوے ہزار روپے قومی خزانے میں جمع کروا کر رکھ لی۔ 19 جون 2019 کو دو کلو گرام عود، مالیت دو لاکھ روپے؛ دو بوتلیں عطر ،مالیت ایک لاکھ اسی ہزار روپے، ایک تسبیح ،مالیت ایک لاکھ تیس ہزار روپے بطور تحائف وصول ہوئے۔ عمران نے محض دو لاکھ چالیس ہزار روپے ادا کر کے یہ تمام تحائف بھی رکھ لیئے۔  کابینہ ڈیویژن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 19 ستمبر 2020 کو عمران اور بشریٰ کو درج ذیل تحائف موصول ہوئے:

رولیکس گھڑی ،مالیت چالیس لاکھ آٹھ ہزار روپے؛ کف لنکس کی ایک جوڑی، مالیت دو لاکھ پچپن ہزار روپے؛ ایک عدد انگوٹھی، مالیت دو لاکھ تیس ہزار روپے، کپڑوں کا ایک عدد جوڑا، مالیت سات ہزار روپے، ایک عدد ہار، مالیت ایک کروڑ نو لاکھ ستر ہزار روپے: ایک عدد بریسلٹ، مالیت چوبیس لاکھ تیس ہزار روپے؛ ایک عدد انگوٹھی، مالیت اٹھائیس لاکھ چھتیس ہزار روپے اور کانوں کی دو بالیاں ،مالیت اٹھارہ لاکھ چھپن ہزار روپے۔ کروڑوں روپے الیت کے یہ تمام تحائف بھی صرف نوے لاکھ اکتیس ہزار روپے کی ادائیگی کر کے ہتھیا لئے گئے۔

لیکن یہ سلسلہ یہیں نہیں رکتا۔ پاکستان کے سابق حکمران خاندان نے جو مذید تحائف حاصل کیے ان میں سونے اور ہیروں والا ایک عدد لاکٹ، مالیت دو لاکھ انہتر ہزار تین سو پچاس روپے؛ سونے اور ہیرے کے ٹاپس کی ایک جوڑی، مالیت ایک لاکھ گیارہ ہزار آٹھ سو روپے؛ سونے اور ہیرے کی دو عدد انگوٹھیاں، ک مالیت بالترتیب ایک لاکھ انچاس ہزار چار سو روپے اور دو لاکھ بہتر ہزار تین سو پچاسروپے؛ سونے کے دو عدد بریسلٹس، مالیت دو لاکھ مپینتیس ہزار پانچ سو روپے۔، یہ تمام تحائف پیرنی کہلانے والی عمران کی اہلیہ کو 11 اکتوبر 2019 کو پیش کیئے گئے۔ انہوں نے یہ تحائف محض پانچ لاکھ چوالیس ہزار کی معمولی رقم ادا کر کے یہ تحائف بھی اینٹھ لئے گئے۔

سابق وزیراعظم پاکستان کی اہلیہ کو 21 مئی 2021 کو کچھ اور تحائف بھی موصول ہوئے۔ ان میں ایک عدد گلے کا ہار، مالیت تیرہ لاکھ انسٹھ ہزار روپے، کان کی بالیاں، مالیت دو لاکھ پچھتر ہزار روپے، ایک عدد انگوٹھی، مالیت دو لاکھ پچیس ہزار روپے، ایک عدد بریسلٹ مالیت چالیس لاکھ روپے۔ موصوفہ نے یہ سب کچھ بھی انتیس لاکھ، چودہ ہزار، پانچ سو روپے دے کر رکھ لیا۔  اس کے علاوہ 15 نومبر 2021 کو زیتون کا تیل اور کافی جن کی مالیت ایک لاکھ چار ہزار روپے اور سترہ ہزار روپے کی عجوہ کھجوریں موصول ہوئیں۔ یہ بھی توشہ خانہ سے خرید لی گئیں۔ عود کی خوشبودار لکڑی، عود کو خوشبو کی دو بوتلیں اور دو عدد چوغے؛ ان کی مالیت دو لاکھ چون ہزار روپیہ ہے؛ بیالیس ہزار روپے کی کافی، زیتون کا تیل، شہد اور کھجوریں ، اور پانچ سو روپے کی ایک کتاب بعنوان "رموزِ شہنشاہی” یہ تمام تحائف 21 مئی 2021 کو موصول ہوئے اور ایک لاکھ تینتیس ہزار دو سو پچاس روپے ادا کر کے رکھ لئے گئے۔

29 اگست 2018 کو ملنے والا بیس ہزار روپے کا ڈیکوریشن پیس، چار ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو ملنے والا تیس ہزار روپے کا ایک عدد ٹیبل میٹ، چار ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو  ملنے والا آٹھ ہزار روپے کا ایک عدد ڈیکوریشن پیس، بیس ہزار روپے کا ایک عدد لاکٹ، چھ ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو پچیس ہزار روپے کی مکہ کلاک ٹاور جیسی گھڑیال، دس ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو ملنے والا نو ہزار روپے کا ایک ڈیکوریشن پیس، تیرہ ستمبر دو ہزار اٹھارہ کو ملنے والی آٹھ ہزار روپے کی وال ہینگنگ اور پچیس ہزار روپے کا ایک ڈیکوریشن پیس ، یس اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو پندرہ ہزار روپے مالیت کا ایک عدد گلدان، نو نومبر دو ہزار اٹھارہ کو تین ہزار پانچ سو مالیت کا ایک ٹی سیٹ؛ پندرہ ہزار روپے کی ایک وال ہینگنگ، پچپن ہزار روپے کے دو ڈیکوریشن پیسز، بیس ہزار روپے کی ایک عدد فریم اور تیس ہزار روپے کا ایک عدد گلدان بھی توشہ خانہ سے اچک لئے گئے۔

16 جنوری 2019 کو بیس ہزار روپے کی مالیت کا ایک عدد قالین، پندرہ مارچ دو ہزار انیس کو ملنے والی ایک عدد فریم، گیارہ اپریل دو ہزار انیس کو ملنے والی ایک ٹیبل واچ، کارڈ ہولڈر اور پیپر ویٹ جن کی مالیت پینتیس سو روپے ہے۔ 17 اپریل 2019 کو ایک عدد چغہ، عود اور دو چھوٹے پرفیومز، ان سب کی مالیت تیس ہزار روپے ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی الیکشن والی تجویز پراتفاق کیا

چھبیس اپریل دو ہزار انیس کو تیس ہزار روپے مالیت کا ایک عدد قالین اور پانچ ہزار روپے کی کیلیگرافی۔ 2 مئی 2019 کو ملنے والے تیس ہزارر وپے کے ایک عدد گلدان، تیس ہزار روپے کی مالیت کی ایک عدد قالین، تیس ہزار روپے کی وال ینگنگ اور ٹرک کا ایک نمونہ بھی حکمران خاندان لے اڑا۔ 16 جون 2019 کو پانچ ہزار روپے مالیت کی کاغذ کی بنی ہوئی ایک عدد وال ہینگنگ بھی بنی گالا چلی گئی۔
Full details of looting released in Imran’s closet

Back to top button