گنڈاپورکی بغاوت،پارٹی فنڈنگ سےانکاری ہوگئے

پی ٹی آئی میں ایک بار پھر اندرونی اختلافات پھوٹ پڑے۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مشکل وقت کے ساتھی سمجھے جانے والے علی امین گنڈاپور نے پارٹی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف گنڈاپور نے پارٹی کی فنڈنگ روک دی ہے وہیں دوسری جانب پارٹی جلسے اور اجلاسوں میں شرکت سے بھی انکاری ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ کی کرسی سے ہٹائے جانے کے بعد سے پارٹی اجلاسوں اور جلسوں سے غائب ہیں جبکہ انھوں نے پارٹی رہنماؤں سے رابطے بھی محدود کر دئیے ہیں۔
کچھ باخبر پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کا پارٹی میں کچھ مخصوص ہم خیال اور پرانے ساتھیوں سے رابطہ ہے، جبکہ پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور نہ ہی وہ پارٹی کے اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے کسی قسم کے پارٹی اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
یہاں تک کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کال پر عمران خان کی رہائی کے حوالے سے پشاور کے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ جلسے میں پارٹی کی تمام مرکزی قیادت نے شرکت کی، لیکن علی امین گنڈاپور اس جلسے سے بھی غائب رہے۔ اس سے قبل 26 نومبر کو پشاور میں یومِ سیاہ منایا گیا تھا اور تقریب کا انعقاد ہوا تھا، جس میں بھی علی امین گنڈاپور شریک نہیں ہوئے تھے، جبکہ ان کی پارٹی حوالے سے کوئی سرگرمی بھی نظر نہیں آ رہی۔
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی اس وقت شدید اندرونی اختلافات اور گروپنگ کا شکار ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ خیبرپختونخوا میں پارٹی رہنماؤں کے مابین اختلافات علی امین گنڈاپور کے وزیراعلیٰ دور سے ہی چلے آ رہے ہیں، لیکن اس وقت ان کے پاس اختیارات تھے، جبکہ اب صوبائی حکومت اور صوبائی قیادت دونوں مخالف گروپ کے پاس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عاطف خان، جنید اکبر اور علی امین کے پارٹی میں اپنے اپنے گروپ ہیں، اور تینوں ایک دوسرے کے سخت مخالف ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشاور رنگ روڈ جلسے میں علی امین کو جوتے دکھانے کے واقعے کے بعد دونوں گروپس میں اختلافات شدید ہو گئے تھے، جبکہ اس کے بعد اسی گروپ کے 2 کابینہ ممبران عاقب اللہ اور فیصل ترکئی کو بھی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔ جبکہ صوابی میں جلسے کی ناکامی کی ذمہ داری بھی مبینہ طور پر علی امین پر ڈالی گئی تھی۔ جس پر علی امین گنڈاپور شدید برہم ہوئے تھے۔ تاہم بعد میں عمران خان نے انھیں وزیر اعلیٰ کی کرسی سے اتار دیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی سے ہٹائے جانے کے بعد سے علی امین گنڈاپور سخت ناراض ہیں اور پارٹی تقریبات میں شرکت نہیں کر رہے یہاں تک کہ وہ پارٹی اجلاسوں کے علاوہ امن جرگے میں بھی شریک نہیں ہوئے تھے۔ وہ آخری بار سینیٹ الیکشن کے لیے اسمبلی آئے تھے، ذرائع کے مطابق علی امین کا مؤقف ہے کہ عمران خان نے انہیں اچانک بلاوجہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا، جو ان کے لیے شرمندگی کا باعث بنا، جبکہ اعلان بھی پارٹی قیادت کے بجائے ایک معمولی وکیل کے ذریعے اڈیالہ جیل سے باہر کیا گیا۔ حالانکہ اس فیصلے سے 6 دن پہلے بھی علی امین اور عمران خان کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں ان کی برطرفی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی، جبکہ کابینہ میں ردوبدل کی اجازت بھی ملی تھی۔ گنڈاپور کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے کے بعد طاقتور حلقوں کی جانب سے علی امین کو حکومت سازی کی پیش کش ہوئی تھی۔ جب علی امین پشاور پہنچے تھے تو اسلام آباد کی جانب سے ان سے رابطہ کیا گیا تھا اور اپوزیشن اور علی امین گنڈاپور کو ہم خیال اراکین کو ساتھ ملا کر حکومت بنانے اور وزیراعلیٰ بننے کی پیش کش کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے فیصلے کو ماننے کا اعلان کر دیا تھا۔ ذرائع کے بقول گنڈاپور نے عمران خان کا فیصلہ تو تسلیم کر لیا تھا لیکن وہ پارٹی قیادت سے سخت ناراض ہو گئے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ انھیں پارٹی کے اپنے رہنماؤں نے سازش کر کے وزارت اعلیٰ کی کرسی سے ہٹوایا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اقتدار سے بے دخلی کے بعدپارٹی سے دور ہو گئے اب تو انھوں نے پارٹی رہنماؤں کی کالز کا جواب دینا اور پارٹی کی مالی مدد کا سلسلہ بھی بند کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور شروع سے پارٹی فنڈ میں پیسے دیتے آئے ہیں، لیکن اب انھوں نے یہ سلسلہ روک دیا ہے۔‘ گنڈاپور کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ علی امین جاگیردار ہیں، گھڑ سواری کے شوقین ہیں اور شکار پر بھی جاتے ہیں۔ وہ پارٹی کے شور شرابے سے دور ایک پرسکون وقت گزار رہے ہیں اور پارٹی سے رابطہ بھی کم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نہ تو علی امین کا پارٹی قیادت سے رابطہ برقرار ہے اور نہ ہی مخالف گروپ کی جانب سے ان سے کوئی رابطہ کیا جا رہا ہے۔ چونکہ اس وقت ان کے پاس کوئی عہدہ نہیں ہے، اس لیے وہ زیادہ تر ڈی آئی خان میں ہی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ دونوں وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے پارلیمانی اجلاسوں میں شریک نہیں ہو سکے۔
بھڑک باز سہیل آفریدی اچانک مفاہمتی کیوں ہو گئے
تاہم دوسری جانب علی امین گنڈاپور کے ترجمان ان خبروں کی تردید کرتے نظر آتے ہیں ان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ اپنے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوتے ہیں، جہاں وہ پارٹی معمولات کے ساتھ ساتھ گھریلو معاملات بھی دیکھ رہے ہیں کیونکہ علی امین وزارت اعلیٰ کے دور میں حلقے کو مناسب وقت نہیں دے سکے تھے اور اب حلقے میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات اور علی امین کے ناراض ہونے کی تردید کی اور بتایا کہ حلقے میں مصروفیات کے باعث علی امین پشاور جلسے اور یوم سیاہ میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔ جبکہ مستقبل میں احتجاج کی صورت میں ضرور شرکت کریں گے۔
