گنڈاپور نے تحریک سے پہلے ہی PTI کو اختلافات کا شکار کر دیا

عمران خان کی جانب سے 5 اگست سے اپنی رہائی کیلئے تحریک چلانے کے اعلان کے بعد سے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور وزیر اعلی علی امین گنڈاپور پر پھر سے ڈبل گیم کھیلنے کا الزام لگنا شروع ہو گیا ہے۔ تازہ گڑبڑ تب ہوئی جب گنڈا پور نے عمران کی جانب سے تحریک 5 اگست کو شروع کرنے کے اعلان کے باوجود لاہور میں اپنی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کر دیا کہ 90 روزہ حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔ گنڈاپور کے اس اعلان نے پارٹی ورکرز اور لیڈرشپ میں کنفیوژن پیدا کر دی ہے کہ اگر تحریک پہلے ہی شروع ہو چکی ہے تو 5 اگست کو انہیں کیا کرنا ہے اور 90 دن کے بعد کیا کرنا ہو گا۔

تحریک انصاف میں موجود گنڈاپور کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر 90 روز کا شوشہ چھوڑا ہے تاکہ 5 اگست سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کا ٹیمپو نہ بن سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی کئی مواقع پر حکومت مخالف تحریک کے دوران علی امین گنڈاپور ورکرز کو ڈی چوک پر پہنچنے کی کال دے کر خود غائب ہو جاتے تھے۔ دو مرتبہ تو وہ خیبر پختون خواہ سے قافلے لے کر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے لیکن ڈی چوک پہنچنے کی وجہ خیبر پختون خواہ ہاؤس جا گھسے۔ 26 نومبر 2024 کو عمران خان کی کال پر پارٹی ورکرز ڈی چوک اسلام آباد تو پہنچ گئے تھے لیکن جیسے ہی لاٹھی چارج شروع ہوا تو گنڈاپور کپتان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی کو لینڈ کروزر میں بٹھا کر پشاور کی جانب فرار ہو گئے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وہ دن تھا جب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ختم ہو گئی اور اب پارٹی ورکرز عمران کی کال پر بھی سڑکوں پر آنے کو تیار نہیں۔ اب علی امین گنڈاپور اور تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ عالیہ نے یہ سوال کر دیا ہے کہ جب عمران خان نے تحریک چلانے کے لیے 5 اگست کی تاریخ دے دی تو پھر گنڈا پور نے 90 روز کا اعلان کیوں کر دیا؟ انکا کہنا تھا کہ یہ انوکھا پلان کہاں سے آیا ہے اور کس کے کہنے پر دیا گیا ہے؟

عالیہ حمزہ ملک نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت نے میرے بارے میں بتایا ہے کہ میں پچھلے دو دن سے مصروف تھی، ایسی مصروفیات جن کا شاید مجھے بھی علم نہیں تھا! انہوں نے استفسار کیا کہ پارٹی رہنماؤں کی پریس کانفرنس میں کیا خان کی رہائی کے لیے کسی لائحہ عمل کا اعلان ہوا ہے؟ کیا کسی نے بتایا کہ حکومت مخالف تحریک کہاں سے اور کب اور کیسے چلے گی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 5 اگست کے مقابلے میں 90 دن کا پلان دینے کا اصل مقصد کیا ہے؟ اگر آپ میں سے کسی کے پاس اس سوال کا کوئی مناسب جواب ہو تو میری بھی رہنمائی کر دیں!

واضح رہے کہ اس سے پہلے لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں گنڈاپور نے کہا تھا کہ 90 روزہ تحریک کا آغاز ہوچکا، اب ہم آر یا پار کریں گے، عمران خان پاکستان کی خاطر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، لیکن بات صرف اور صرف اصل فیصلہ سازوں سے ہوگی، اگر اصل فیصلہ ساز کسی کو مزاکرات میں بٹھا لیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان بھر میں ہر گلی، کوچے، قصبے اور شہر سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے مقامی سطح پر احتجاج کرنا ہے یا ایک جگہ جمع ہونا ہے۔

گنڈاپور کا کہنا تھا کہ انہوں نے 90 روزہ تحریک کا اعلان کردیا ہے کیوں کہ عمران خان ہمیشہ تبدیلی کے حوالے سے 90 روز کا وقت دیا کرتے تھے، میری طرف سے بھی آج واضح پیغام ہے کہ 90 دن شروع ہو گئے ہیں جن میں تحریک عروج پر لے جا کر یا تو ہم رہیں گے یا پھر نہیں رہیں گے۔ تاہم اصل فیصلہ سازوں یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے گنڈاپور نے فوج پر چند بڑے حملے بھی کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ آج پختونخوا اور بلوچستان کے حالات کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جن کا کام سرحدوں کو کلیئر کرنا ہے، لیکن وہ سرحدیں سنبھالنے کی بجائے تحریک انصاف کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

وزیر اعلی گنڈاپور نے فوجی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بار بار مارشل لا لگائے، ان بار بار کے مارشل لاز سے پاکستان اور اسکے خے جمہوری نظام کو عالمی سطح پر جتنا نقصان ہوا اتنا کسی اور فیصلے سے نہیں ہوا، میرا سوال یہ ہے کہ اج وہ مارشل لگانے والے کہاں گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آج وہ پاکستان میں نہیں، لیکن ان کا کیا کرایا ہر عام پاکستانی بھگت رہا ہے۔

گنڈاپور نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر اپنے حملے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک پر ایک مافیا حکمران ہے، وہ ریاستی ادارے جن کا کام سیاست کرنا نہیں ہے، وہ حکومتیں بنانے، چلانے اور گرانے میں سارا زور لگاتے ہیں، پھر جب ان سے پوچھا جائے تو بڑے مزے سے جواب دیتے ہیں کہ ہم تو غیر سیاسی ہیں، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انکا کہنا تھا کہ چند غلط لوگوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے فوج بدنام ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ خدا کی قسم اس ملک میں سب سے زیادہ سیاست فوجی کر رہے ہیں، میں خود ایک فوجی کا بیٹا اور ایک فوجی کا بھائی ہوں، مگر سیاست میں کودنے کی وجہ سے ہماری فوج بدنام ہورہی ہے جس کا پورے ادارے کو نقصان ہو رہا ہے۔

تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے ایک طرف تو فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ہی سیاسی مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور دوسری جانب وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر سیاست میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر رہے ہیں جو کہ ایک کھلا تضاد ہے۔ یعنی گنڈاپور بظاہر فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی حکومت کی بجائے فوج کے ساتھ مذاکرات کی خواہش ظاہر کر کے فوج کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی۔

Back to top button