ڈبل گیم کھیلنے والا گنڈاپور یوتھیوں کے نشانے پر آ گیا

عمران خان کے منظور نظر وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور وکٹ کے دونوں جانب کھیل کر قیدی اور شاہ دونوں کو راضی کرنے کے چکر میں بری طرح پھنس چکے ہیں جہاں ایک طرف پارٹی رہنما ان کے غائب ہونے کی کہانی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں وہیں دوسری جانب پارٹی کارکنان نے بھی گنڈاپور کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبائی اسمبلی میں ڈرامائی انٹری اورخطاب پر تحریک انصا ف کے حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔تاہم تحریک انصاف کے مرکزی قائدین علی امین گنڈاپور کی کہانی پر یقین کرنے کو تیار نہیں ۔ جس کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے اپنےکارکنوں نے ہی پورے واقعے کا پوسٹ ماٹم شروع کررکھا ہے ۔احتجاج میں شامل کارکنوں نے علی امین گنڈاپور کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے ۔پارٹی ذرائع کے مطابق اسلام آباد احتجاج کے دوران علی امین گنڈاپور 30گھنٹے تک غائب رہے پھر اچانک اسمبلی میں نمودار ہوئےاور زور دار تقریر کرکے اپنا موقف پیش کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اس میں یکسر ناکام رہے۔ تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق یہ پہلی دفعہ نہیں کہ وہ عین موقع پر غائب ہو گئے ہوں وہ اسی طرح ماضی میں اسلام آباد جلسے کے بعد بھی آٹھ گھنٹے غائب رہے جبکہ لاہور اور پنڈی کے جلسوں میں بروقت نہیں پہنچ سکے جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے ۔اسلام آباد احتجاج کے دوران اچانک غائب ہو جانے پر جہاں علی امین گنڈا پور تنقید کی زد میں ہیں وہیں دوسری جانب پارٹی کارکنان نے تحریک انصاف کی دوسری قیادت کو بھی نشانے پر لے رکھا ہے اور احتجاج کو دو دن گزرنے کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سارے معاملات میں علی امین گنڈا پور کا سیاسی کردار مشکوک ہے اور وہ دونوں طرف کھیل رہے ہیں ۔ کارکنوں کو اکیلا سڑکوں پر چھوڑ کر تحریک انصاف کی لیڈر شپ غائب ہوگئی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے پارٹی کارکنان کا وقت اور وسائل ضائع کیے گئے۔ ناقدین کے مطابق تحریک انصاف کی سیاست کافی عرصے سے عقل سے لاتعلق نظر آرہی ہے،علی امین گنڈا پور عمران خان کے ہیرو ہیں لیکن اب وہ کروڑوں کارکنوں کے لیے زیرو بن چکے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کے اتنا وقت غائب رہنے اور سامنے آنے کے بعد کئے گئے خطاب بارے سوشل میڈیا پر بھی بحث زوروں پر ہے اور یوتھیے سوشل میڈیا ہی علی امین گنڈاپور کا خوب رگڑا نکال رہے ہیں۔
اس حوالے سے صحافی امیر عباس کا کہنا ہے کہ جو اسکرپٹ علی امین گنڈاپور کو یاد کروا کر بھیجا گیا ہے اسے اس ملک کی سیاست کو سمجھنے والا کوئی کم عقل طالبعلم بھی ماننے کو تیار نہیں۔ علی امین نے اصل مجرموں کو چھوڑ کر سارا ملبہ آئی جی پر ڈال دیا اور رینجرز کا نام لینا بھی بھول گئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر علی امین گنڈاپور سچ بول رہے ہیں تو انہیں آئی جی اسلام آباد کے خلاف ایف آئی آر کروا کر گرفتار کرنا چاہیے، لیکن علی امین جانتے ہیں کہ آئی جی تو فرنٹ پر تھا، پیچھے کوئی اور تھا، اور جو پیچھے ہے وہ اپنے اثاثوں پر آنچ بھی نہیں آنے دیتا، انہوں نے علی امین گنڈا پور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب تک آپ اپنے کارکنوں کا امتحان لے رہے تھے لیکن اب آپ کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔
سعد قیصر نے علی امین گنڈا پور کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈا پور کی ایکٹنگ پر ایک آسکر تو بنتا ہے۔ خیبر پختونخوا والے کب تک ایسے بے وقوف بنتے رہیں گے؟
ایک ایکس صارف نے علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ کوئی رہ تو نہیں گیا جس نے عمران خان کی پیٹھ میں خنجر نہ گھونپا ہو۔
اسلام آباد میں 9 مئی جیسا ایک اور سانحہ برپا کرنے کی سازش
صحافی سرل المیڈا نے لکھا کہ فراڈ پارٹی، فراڈ سیاست، فراڈ لیڈر شپ، سب فراڈ ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ علی امین گنڈا پور رانگ نمبر ہے وہ ڈبل گیم کھیلتے ہیں اور عمران خان کو دھوکا دے رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ 28 گھنٹے وہ کہاں غائب رہے، بس ادھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔
علی امین گنڈاپور کے بیانات پر صحافی عمران ریاض خان نے لکھا کہ اس سے بہتر تھا کہ وہ کچھ عرصہ تک خاموش ہی رہتے۔
ندیم رضا نامی صارف نے علی امین گنڈا پور کی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’لوگ ان جیسوں کی قسموں پر یقین بھی کرلیتے ہیں‘۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کی متضاد اطلاعات تھیں، وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو کسی ادارے نے گرفتار نہیں کیا، ان کی کے پی ہاؤس سے بھاگنے کی ویڈیو موجود ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے دعوے کئے جا رہے تھے تاہم حقیقت میں وزیراعلی خیبرپختونخوا بھائی لوگوں کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
