غزہ : امداد کے داخلے کو جنگ بندی سے منسلک نہیں کیا جا سکتا، سعودی وزیر خارجہ

سعودی عرب کےوزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ غزہ میں امداد کے داخلے کو جنگ بندی سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔

عرب نیوز کی رپورٹ کےمطابق شہزادہ فیصل نےیہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ غزہ کوامداد کی فراہمی کی اجازت دے۔

انطالیہ میں غزہ کی جنگ بندی کے بارے میں عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کےاجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےسعودی وزیر نے یہ بات کہی، اجلاس میں انکلیو میں ہونےوالی پیش رفت کے ساتھ ساتھ فوری اور پائیدار جنگ بندی کے حصول کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں فلسطینی عوام کوان کےبنیادی حقوق کےاستعمال کےقابل بنانےکے لیے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نےکہا کہ فلسطینیوں کی بےدخلی کو واضح طورپرمسترد کیا جاتا ہے، سعودی عرب جنگ بندی مذاکرات میں مصر اورقطر کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ ہم فلسطینیوں کوان کی سرزمین سے بےدخل کرنےسے متعلق کسی بھی تجویز کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں، اس کا اطلاق ہر طرح کی نقل مکانی پر ہوتا ہے۔

انہوں نےکہا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو فلسطینیوں کی بعض اقسام کی روانگی کو رضاکارانہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن آپ رضاکارانہ انخلا کی بات نہیں کر سکتے، جب کہ غزہ میں فلسطینیوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات سےمحروم رکھا جا رہا ہے۔

کینیڈا نے امریکی ریاست الاسکا کوجانے والے ہر ٹرک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر امداد نہیں مل رہی ہے، اگر لوگوں کو کھانا، پانی یا بجلی نہیں مل رہی ہے، اور اگر انہیں مسلسل فوجی بمباری کا خطرہ ہے،تو یہاں تک کہ اگر کسی کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تو یہ رضاکارانہ انخلا نہیں ہے،یہ جبر کا تسلسل ہے۔

سعودی وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی تجویز جس میں فلسطینیوں کی روانگی کو فریم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، یا جسےان حالات میں رضاکارانہ انخلا کا ’موقع‘ کہا جاتا ہے،محض حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نےکہا کہ حقیقت یہ ہےکہ غزہ میں فلسطینیوں کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس حقیقت کی وضاحت جاری رکھنی چاہیے، لگاتار کام کرنا چاہیے، اور امید ہے کہ یہ پیغام سب کے لیے واضح ہو گا،خاص طورپراس ایکشن پلان کے فریم ورک کے اندر جس پر ہم نے آج کمیٹی میں اتفاق کیا ہے۔

سعودی وزیر خارجہ نے مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سےبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی،جن میں یہودی بستیوں کی توسیع، گھروں کو مسمار کرنا اورزمین پر قبضہ شامل ہے۔

Back to top button