غزہ امن بورڈ کا اجلاس، وزیر اعظم شہباز شریف کی عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

واشنگٹن میں منعقد ہونے والے بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس کے موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے خوشگوار اور غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے موقع پر  وزیر اعظم شہباز شریف کی  حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ (بحرین)، الہام علیئیف (آذربائیجان)، شوکت مرزایوف (ازبکستان)، قاسم جومارت توکایف (قازقستان) اور پرابوو سوبیانتو (انڈونیشیا) سے ہوئی۔

 فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ہونا چاہیے،وزیراعظم

ان ملاقاتوں میں عالمی اور علاقائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ماحول، مسکراہٹوں اور غیر رسمی گرمجوشی کا اظہار نمایاں رہا۔

یاد رہیے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف یہ دورہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر کر رہے ہیں، جہاں وہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نےبورڈ آف پیس کے اجلاس میں فیلڈمارشل اور شہباز شریف کی تعریف کردی

پاکستان کی اس فورم میں شمولیت غزہ میں قیامِ امن، تعمیرِ نو کی کوششوں اور عالمی امن کے فروغ کے لیے اس کی سفارتی کاوشوں کی عکاسی کرتی ہے، جو ملک کی فعال اور مؤثر خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔

اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ہونا چاہیے، آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کی کارکردگی کی نگرانی بھی کرے گا،ٹرمپ

انہوں نے  کہا کہ غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے۔فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دیرپا امن کے لیے غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ختم ہونی چاہئیں۔

Back to top button