جنرل عاصم منیر طویل ترین عرصے تک آرمی چیف رہیں گے

 

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ان کی مدتِ ملازمت اب 2030 میں ختم ہو گی، جس میں مزید اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔ اس تقرری کے بعد جنرل عاصم منیر پاکستانی تاریخ میں وہ پہلے آرمی چیف بن گئے ہیں جو سب سے طویل عرصے تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

4 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر آئندہ پانچ سال تک بیک وقت پاکستان کے چیف آف ڈیفینس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس طرح وہ بیک وقت تین طاقتور ترین عسکری عہدوں پر تعینات رہیں گے۔ ایوان صدر کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے بعد گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر جنرل عاصم منیر کی تعیناتی بارے جاری قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں۔ وزیراعظم کی ارسال کردہ سمری کے بعد صدر آصف علی زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بطور چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفینس فورسز تقرری کی باقاعدہ منظوری دی تھی۔ ایوانِ صدر کے اعلامیے کے مطابق ان کی مدتِ ملازمت پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ جنرل عاصم منیر نومبر 2022 میں جنرل قمر جاوید باجوہ کی دوسری مدتِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد آرمی چیف مقرر کیے گئے تھے۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت نے پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے آرمی چیف کی مدتِ ملازمت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی تھی، جس کے تحت جنرل عاصم منیر کی مدت ملازمت 2027 میں مکمل ہونا تھی۔ تاہم 27ویں آئینی ترمیم کے تحت اب آرمی چیف کے پاس چیف آف ڈیفینس فورسز کا اضافی آئینی عہدہ بھی ہے اور نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق وہ اگلے پانچ برس کے لیے دونوں مناصب پر برقرار رہیں گے۔

گزشتہ ماہ 27 نومبر کو جنرل ساحر شمشاد مرزا جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے، جس کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت جلد از جلد چیف آف ڈیفینس فورسز کی تقرری کا اعلان کرے گی۔ تاہم نوٹیفیکیشن میں تاخیر کے باعث مختلف قسم کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق یہ تمام قیاس آرائیاں بلاجواز تھیں اور تحریک انصاف سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس غیر ضروری کنفیوژن پھیلا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی، متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط ترتیب دیے، جس میں وقت لگا۔ ان کے بقول چیف آف ڈیفنس فورسز کے سیکریٹریٹ کے قیام کے باعث نوٹیفکیشن کا عمل طویل ضرور ہوا مگر سب کچھ قانون کے مطابق انجام پایا۔

تحریک انصاف کے سوشل میڈیا بریگیڈ کی جانب سے افواہ سازی پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ موجودہ حکومت اور فوج کے تعلقات ماضی کے برعکس بہتر ہیں اور یہ وابستگی کسی ذاتی مفاد کے بجائے ریاستی مفاد کے اصول پر قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہم آہنگی نے پاکستان میں سیاسی و ادارہ جاتی استحکام پیدا کیا ہے۔ دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر نے اس تعیناتی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی طور پر سیاسی حکومتیں ہمیشہ اپنی پسند کا آرمی چیف لانے کی کوشش کرتی رہی ہیں، لیکن اکثر یہ تعلق اختلاف پر منتج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ آئینی ترمیم سے بظاہر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کو سیاسی فائدہ ہوا ہے، مگر اس کا نتیجہ اداروں کے کمزور ہونے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ اس تقرری کے بعد تحریک انصاف اور ریاستی اداروں کے درمیان کھلی سیاسی جنگ کا تاثر مضبوط ہوا ہے، کیونکہ سابق وزیر اعظم عمران خان مسلسل جنرل عاصم منیر پر تنقید کرتے آئے ہیں۔ حامد میر کے مطابق اس تعیناتی سے ملک میں فوری سیاسی استحکام آنے کی امید نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ لڑائی اب بیرون ملک حلقوں تک بھی پہنچ گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ امریکہ میں موجود پاکستان مخالف لابی تحریک انصاف کی قیادت کے مقدمات کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دے رہی ہے اور امریکی سینیٹرز کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔

تاہم حامد میر کے مطابق فوج اور سکیورٹی اداروں میں ہونے والی حالیہ تبدیلیاں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ حکومت کو اب بھی بھارت کی جانب سے کسی ممکنہ خطرے کا احساس ہے، اسی لیے عاصم منیر کو چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ دیا گیا اور ائیر چیف کی مدتِ ملازمت میں بھی توسیع کی گئی ہے۔ اس اہم اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر بھی عاصم منیر سے متعلق بحث جاری ہے۔ ایکس پر صارفین اس فیصلے کے سیاسی اور عسکری اثرات پر تبصرے کر رہے ہیں۔ صارف عمر اظہر نے عاصم منیر کی 2030 تک توسیع شدہ مدت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستانی تاریخ میں اس سے قبل کبھی کسی حاضر سروس آرمی چیف کو ایسی آئینی حیثیت یا مدتِ ملازمت میں اتنی بڑی توسیع نہیں ملی، اور یہ فیصلہ انہیں پاکستان کا تاریخ کا طویل ترین عرصے تک خدمات انجام دینے والا آرمی چیف بناتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی بطور چیف آف ڈیفینس فورسز تقرری نے ملکی سیاست میں تحریک انصاف کی رہی سہی امیدیں بھی ختم کر دی ہیں۔

Back to top button