جنرل عاصم منیر کا 2030 تک آرمی چیف رہنے کا راستہ ہموار

 

 

 

پاکستان آرمی ایکٹ میں ترمیم کے بعد آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے لیے 2030 تک آرمی چیف کے عہدے پر فائز رہنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ آرمی ایکٹ میں ترامیم کے بعد جنرل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا اور اضافی عہدہ سونپا جا رہا ہے۔ انکی اس عہدے پر تعیناتی کے لیے ایک علیحدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا جس کے بعد ان کی مدتِ ملازمت پانچ برس کے لیے ازسرِ نو شروع ہوگی، یوں اب وہ 2030 تک مسلح افواج کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

 

یاد رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد قومی اسمبلی نے آرمی ایکٹ 2025 سمیت نیوی ایکٹ اور ایئرفورس ایکٹ میں بھی اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے جن کے نتیجے میں ملک کی عسکری قیادت کے ڈھانچے میں بڑی نوعیت کی تبدیلی کی گئی ہے۔ ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے مطابق اب چیف آف آرمی سٹاف کو باضابطہ طور پر آرمی  چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کہا جائے گا۔ اس نئے عہدے کی تخلیق کا مقصد تینوں افواج یعنی بری، بحری اور فضائیہ کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، عسکری ڈھانچے کی تنظیمِ نو کرنا اور دفاعی حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔

 

نئی ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز افواج پاکستان کی مجموعی پالیسی سازی اور مشترکہ کمانڈ کے تحت فیصلہ سازی کے عمل کی قیادت کریں گے۔ ادھر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی ہے کہ اب آرمی چیف بطور چیف آف ڈیفنس فورسز پانچ سال کے لیے تعینات ہوں گے، اور ان کی نئی مدتِ ملازمت اس روز شروع ہوگی جس دن انکی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

 

27 نومبر 2025 سے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا اور اسکی جگہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ قائم ہو گا۔ یوں جنرل ساحر شمشاد مرزا آخری چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ہوں گے۔ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تعیناتی وزیر اعظم پاکستان چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کریں گے۔ اس عہدے کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے جس میں مزید تین سال کی توسیع کا اختیار بھی دیا گیا ہے، اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ اس عہدے پر تعینات جرنیل پر آرمی ایکٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر یا دیگر قواعد لاگو نہیں ہوں گے۔

 

آرمی ایکٹ میں یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ چیف آف دی ڈیفنس فورسز کی سفارش پر وفاقی حکومت کسی افسر کو بطور وائس یا ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف وہ اختیارات دے سکتی ہے جو آرمی چیف کے پاس ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریوں کا تعین کرے گی جن میں افواج پاکستان کی تنظیمِ نو، دفاعی پالیسیوں کا انضمام اور جدید جنگی تقاضوں کے مطابق کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام کی بہتری شامل ہوگی۔ یاد رہے پارلیمنٹ میں میں ان ترامیم کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھس کہ یہ قانون سازی وقت کی ضرورت کے مطابق ہے اور اس سے تینوں افواج کے درمیان ایک یونائیٹڈ کمانڈ سٹرکچر قائم ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں جدید جنگی تقاضوں کو سامنے رکھ کر تجویز کی گئی ہیں۔

 

حکومت کا موقف ہے کہ 27 ویں ترمیم کے بعد آرمی ایکٹ میں ترامیم سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور تینوں مسلح افواج کے مابین ہم آہنگی بہتر ہو جائے گی، لیکن دوسری طرف قانونی اور سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ سینئر قانون دان اور سابق جج ڈاکٹر خالد رانجھا کے مطابق پاکستان کی فوج میں بہت سے اہل افسران موجود ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ ان ترامیم سے ان کی جانب سے ردِعمل سامنے آئے۔ ان کا کہنا یے کہ یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد ملکی مفاد سے زیادہ انفرادی مفاد کا تحفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ایک حساس ادارہ ہے اور خطے کے موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کی بے چینی خطرناک ہو سکتی ہے۔

 

اس معاملے پر سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کو چیف آف ڈیفنس فورسز بنانا تو ٹھیک تھا، لیکن نئے نوٹیفیکیشن کے ذریعے ان کی مدتِ ملازمت دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ایسا کر کے یہ معاملہ غیر ضروری طور پر پیچیدہ کر دیا گیا ہے۔ اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ 2030 تک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسز رہیں گے۔

عمران خان اقتدار میں آکر 26ویں اور 27ویں ترامیم منسوخ کردیں گے : اسد قیصر

ادھر عدلیہ میں بھی اس آئینی و قانونی ترمیم پر ردِعمل سامنے آیا ہے۔ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کے دو جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ، اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فیصلہ پارلیمان کا حق ہے، تاہم اس کے اثرات ملک کے آئینی توازن اور فوجی ڈھانچے پر دیرپا ہوں گے۔

 

لیکن مجموعی طور پر آرمی ایکٹ 2025 میں ترامیم ہماری عسکری تاریخ میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت میں تمام اختیارات ایک ہی مرکز کے تحت آجائیں گے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو اس وقت بری فوج کے سربراہ ہیں، اب باضابطہ طور پر پورے ڈیفنس سٹرکچر کے سپریم کمانڈر کے طور پر کام کریں گے۔ ان کی حیثیت صرف آرمی چیف تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ تینوں مسلح افواج کے مشترکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کی ذمہ داریاں بھی ادا کریں گے۔ ان کے نئے پانچ سالہ دور کی شروعات نوٹیفیکیشن کے بعد ہو گی اوریوں وہ 2030 تک پاکستانی عسکری قیادت کے چہرے کے طور پر موجود رہیں گے۔

Back to top button