جنرل باجوہ کا بشریٰ بی بی کی اصل تکلیف پتہ کرنے کا مشورہ

2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے عمران کو وزیراعظم بنوانے والے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوا نے بشری بی بی کی دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ سعودی عرب کے بعد انہیں وہاں سے عمران کے خلاف کسی قسم کی کوئی کال نہیں آئی تھی اور نہ ہی ان کی اس حوالے سے کبھی سابق وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پتہ کرنا ضروری ہے کہ بشری بی بی نے جو جھوٹ داغا ہے اس کے پیچھے اصل تکلیف کیا ہے۔
عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کے ویڈیو بیان پر ردعمل دیتے ہوئے جنرل باجوہ نے کہا ہے کہ دوست ملک کے حوالے سے سابق خاتون اول کا الزام 100 فیصد جھوٹ پر مبنی ہے جسے صرف سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے گھڑا گیا ہے تاکہ شریعت کا نام لے کر لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا جا سکے۔
یاد رہے کہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کے خلاف تمام قوتیں اس لئے کھڑی ہو گئیں کہ وہ ننگے پاؤں مدینہ گئے تھے۔ بشریٰ نے دعویٰ کیا کہ جب عمران سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے واپس آئے تو فوراً ہی جنرل باجوہ کو کالیں آنا شروع ہو گئیں کہ یہ تم کس شخص کو اٹھا لائے تھے؟ ہم سعودی عرب کی طرح پاکستان میں شریعت کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور تم ہمارے پاس شریعت کے ٹھیکیدار کو اٹھا لائے؟بشریٰ نے کہا کہ باجوہ کو بتایا گیا کہ عمران خان ہمیں نہیں چاہیے۔ "آپ یقین کیجیے کے اس کے بعد عمران خان اور اس کی بیگم کے بارے میں گند ڈالنا شروع کر دیا اور خان کو یہودی کا ایجنٹ کہنا شروع کر دیا”۔
سابق خاتونِ اوّل نے کہا کہ عمران خان نے یہ بات کبھی عوام میں نہیں بتائی۔ اگر یہ بات غلط ہو تو آپ جنرل باجوہ کو پوچھیں کہ ان کی فیملی نے یہ باتیں کس شخص کو بتائی تھیں جو عمران خان تک پہنچیں۔ دوسری جانب سابق آرمی چیف نے بشری بی بی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ایکسرپس نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ خانہ کعبہ کے متولیوں کا ملک شریعت کے خلاف کوئی بات کیسے کر سکتا ہے، جیسا کہ بشری بی بی نے الزام لگایا ہے۔
جنرل قمر باجوا کا کہنا تھا کہ جب عمران خان سعودی عرب گئے تھے تو حکمران خاندان نے ان کے لیے خانہ کعبہ اور روضہ رسول کے دروازے کھلوانے کے علاوہ انہیں بے شمار تحائف سے بھی نوازا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد تو خود گاڑی ڈرائیو کر کے عمران خان کو ایئرپورٹ سے لے کر گئے تھے پھر وہ ان کے حوالے سے کوئی منفی گفتگو کیوں کریں گے۔
جنرل (ر) قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بشریٰ بی بی اس کے بعد اپنی بیٹی کے نکاح کے لیے بھی سعودی عرب گئیں، 2021 میں عمران اور بشریٰ بی بی پھر سعودی عرب گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت کے نفاذ کے خلاف کوئی سعودی حکمران کیسے بات کر سکتا ہے، عمران حکومت کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے تو سعودی عرب نے اربوں ڈالرز رول اوور کر کے دیے تھے، ایسے میں سمجھ نہیں آئی کہ خاتون خانہ کو اصل مسئلہ کیا ہے، ان کی اصل تکلیف کا پتہ لگانا ضروری ہے، یہ میرے لیے بھی بڑا معمہ ہے، عمران بھی ایک جھوٹا بیانیہ بنانے کے لیے کل کو کہہ سکتے ہیں کہ بشری بی بی کی جانب سے کی گئی بات درست ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوا نے کہا کہ مجھے اس الزام پر بہت زیادہ تشویش ہے، کیونکہ ریٹائرڈ فوجی کے پاس اپنا کوئی دفاع نہیں ہوتا، وہ سیاستدان کی طرح بیان بازی نہیں کر سکتا، سویلین تو کسی بھی حوالے سے بات کر لیتے ہیں، ایسے میں لگتا ہے بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے احتجاج سے پہلے عمران خان کے حق میں لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارنے کے لیے شریعت کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ان کے تعلقات کبھی بھی خراب نہیں ہوئے، ایسا صرف ایک مرتبہ ہوا تھا جب عمران کابینہ کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان پر سعودی عرب کی جانب سے پریشانی کا اظہار ہوا تھا۔
24 نومبر احتجاج : علیمہ خان نے عمران خان کا اہم پیغام کارکنوں تک پہنچادیا
جنرل باجوہ ان کا کہنا تھا کہ 21 مارچ 2022 کو اسلامی تعاون تنظیم کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوئی تھی، اگر سعودی عرب عمران خان سے ناراض ہوتا تو کیا وہ او آئی سی کانفرنس یہاں ہونے دیتا اور پھر اس میں شریک بھی ہوتا ہے۔ سابق آرمی چیف نے بتایا کہ اپنے دوسرے دورے پر محمد بن سلمان خود عمران خان کو ریسیو کرنے جدہ آئے تھے، اگر انکے تعلقات خراب ہوتے تو ایسا کیوں ہوتا، انہوں نے بتایا کہ عمران کے دورہ سعودی عرب کے دوران رات کو جو کھانا ہوا تھا اس میں شاہ محمود قریشی اور میں بھی موجود تھا۔
جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ کیسے ممکن ہے کہ تعلقات خراب ہوں اور سعودی ولی عہد عمران خان کو خود لینے آئیں۔
