جنرل فیض حمید کو کورٹ مارشل کے بعد تا حیات قید کی سزا؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش میں ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تا حیات قید کی سزا سنادی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ انہیں تاحیات قیدِ با مشقت کی سزا دینے کے علاوہ ان کی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں ریاست نے ضبط کر لی ہیں، ان کی سرکاری مراعات اور پنشن ختم کردی گئی ہے، اور ان کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیض حمید سمیت انکے خاندان کے تمام افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے گئے ہیں جبکہ ان کے بھائی نجف حمید کی گرفتاری کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ تاہم فوج یا حکومت نے اب تک سوشل میڈیا پر وائرل اس خبر کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔

دوسری جانب کچھ سوشل میڈیا صارفین ان دعوؤں کو جھوٹ اور بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ گل رخ داود نامی صارف کا کہنا ہے کہ واٹس ایپ اور دیگر پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی خبریں مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن ہیں اور اب تک کسی مستند ذریعے سے یہ تصدیق نہیں ہوئی کہ فیض حمید کو کوئی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو افواہوں سے بچنا چاہیے اور معلومات صرف معتبر ذرائع سے ہی حاصل کرنی چاہئیں۔ اسی دوران صحافی شاہد میتلا نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ تین برس تک جنرل فیض حمید کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی، تاہم اب یہ خبریں درست ہو سکتی ہیں کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور ممکن ہے کہ انہیں سزائے موت یا عمر قید جیسی سخت سزا سنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو بھی ملٹری عدالت نے سزا دی تھی، ان کی پنشن ضبط کی گئی تھی اور ان کا نام ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا، اس لیے فیض حمید کے خلاف بھی سخت فیصلے کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔

خیال رہے کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی 12 اگست 2024 کو باضابطہ طور پر شروع کی گئی تھی۔ ان پر جو الزامات عائد کیے گئے وہ نہ صرف سنگین نوعیت کے تھے بلکہ ان میں سے کئی الزامات براہِ راست ریاستی سلامتی اور آئینی ڈھانچے سے متعلق تھے۔ فیض حمید کے خلاف کورٹ مارشل کی کاروائی کے دوران کارروائی کے دوران ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں کی تشکیل، ٹوٹ پھوٹ، اندرونی فیصلوں اور حکومتی تبدیلی کے عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ یہ الزام پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت پیشہ ورانہ غیر جانب داری کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان پر سب سے سنگین الزام پاکستان آرمی کے آفیشل سیکرٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کا تھا۔ فیض حمید نے مبینہ طور پر ریاستی رازوں، خفیہ سرکاری معلومات اور حساس نوعیت کی بریفنگز کو مخصوص سیاسی شخصیات کے ساتھ شیئر کیا، جسے ملک کے دفاعی اور خفیہ ڈھانچے کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

سابق آئی ایس آئی چیف پر اپنے اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق فیض حمید نے اپنے عہدے کا استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد کی ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت متعدد منصوبوں میں غیر قانونی مداخلت کی، جس سے کاروباری شخصیات کو مالی نقصان پہنچا۔ اس دوران ایک بلڈر معیز احمد خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فیض حمید نے اپنے بھائی نجف حمید کو زمین اپنے نام کروانے میں مدد دینے کے لیے ریاستی اداروں کو دباؤ کے تحت استعمال کیا۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان کے کہنے پر آئی ایس آئی کے دو سابق بریگیڈیئرز نے معیز احمد سے چار کروڑ روپے زبردستی وصول کیے۔ یہ الزام مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی سنگین مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران سب سے سنگین الزام یہ سامنے آیا کہ فیض حمید 9 مئی کے واقعات کے “ماسٹر مائنڈ” تھے اور انہوں نے عمران خان کے ساتھ مل کر فوجی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس الزام کے تحت 200 سے زائد فوجی افسران کے خلاف پہلے ہی تادیبی کارروائیاں ہو چکی ہیں۔ اگر یہ الزام ثابت ہوتا ہے تو یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے جو ملٹری قانون کے مطابق سخت ترین سزاؤں کا متقاضی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش سامنے آنے والے شواہد نے اس خدشے کو تقویت دی کہ فیض حمید نے بعض بیرونی اور اندرونی عناصر کے ساتھ مل کر ریاستی مفادات کے خلاف سازش کی۔ لیکن ان الزامات کے باوجود فیض حمید کے وکیل ان پر عائد متذکرہ تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل فیض حمید کے سیاسی شخصیات سے تعلقات سماجی نوعیت کے تھے، انکے مطابق وہ کسی سیاسی یا عسکری سازش کا حصہ نہیں تھے، اور ٹاپ سٹی سے متعلق الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

اس تمام صورتحال کے باوجود تاحال کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا جس کے باعث قیاس آرائیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دن اس معاملے میں فیصلہ کن ہوں گے، اور یہ واضح ہو جائے گا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اطلاعات کتنی درست ہیں اور کتنی محض افواہیں۔

Back to top button