جنرل فیض کا نام غلطی سے نکلا ، وہ وہاں موجود نہیں تھے

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید پر عمران خان کی حکومت گرانے کا الزام لگا کر مکر گئے ہیں، کہتے ہیں کہ جنرل فیض کا نام میری زبان پر غلطی سے آ گیا، انھوں نے ’جی ٹی وی‘ کے پروگرام میں اینکر غریدہ فاروقی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’جب ملک کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا سامنا رہا اور پھر جب دفاعی عدم استحکام کی صورتحال پیدا ہوئی تو انھیں (فوج کو) بھی ادراک ہوا اور انھوں نے سنبھالا دینے کے لیے سیاست دانوں کے ساتھ رابطے کیے تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر یہ یہ الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جنرل فیض اور جنرل باجوہ کے کہنے پر لائی گئی تھی، اس کے بعد سے آج پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے اس الزام کی تردید کی گئی ہے، میزبان غریدہ فاروقی نے سوال کیا کہ جنرل باجوہ کی طرف سے ذرائع سے اس بارے میں خبر آئی ہے کہ وہ آپ کے کل کے بیان کر تردید کرتے ہیں اور اس بارے میں حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے جواب میں کہا کہ ’یہ ہم سے کیسے حلف کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیا فوج کے ہاں اپنے حلف کا احترام ہے، کیا جرنیلوں کے ہاں حلف کا احترام ہے۔ کیا جب وہ کمیشن لیتے (فوج میں) تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے؟ کیا وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتے اور اپنا حلف نہیں توڑتے، تو اگر آج کوئی ہمیں کہتا ہے کہ ہم حلف اٹھائیں تو اس کی کیا اہمیت ہو گی میری نظر میں۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا وہ اس حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کریں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’تحقیقات کون کرے گا؟ مجھے پاکستان کے کسی بھی ادارے بشمول عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے۔

Back to top button