جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان پر فرد جرم کی تفصیلات آ گئیں

9 مئی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور دیگر پرعائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنےآگئیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کےجج امجد علی شاہ نےاڈیالہ جیل میں9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی۔وکلاءکےدلائل مکمل ہونےکےبعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان ،شیخ رشید سمیت دیگر ملزمان پربھی فرد جرم عائد کی گئی ہے، مجموعی طور پر100 ملزمان پرفرد جرم عائد کی گئی ہے۔
عمران خان اوردیگر پرعائد فرد جرم میں الزامات کی تفصیلات سامنےآگئیں جس کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں پر جی ایچ کیو پرحملہ، افواج پاکستان کوبغاوت پراکسانےکاالزام ہے۔
فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر9 مئی سےقبل منصوبہ بندی کرکےعسکری اہداف کا تعین اور9مئی واقعات،ملکی داخلی،سلامتی اورریاستی استحکام پر براہ راست حملےکاالزام ہے۔
فرد جرم میں کہا گیاہے کہ پی ٹی آئی قیادت نےسیاسی مقاصد کے لیے دہشت گرد تنظیموں کی طرز پرمنظم منصوبہ بندی کی،پرتشدد مظاہروں سےحکومت کو دباؤ میں لانادہشتگردی کےزمرےمیں آتا ہے،جولائی2023 میں محکمہ داخلہ پنجاب نے9 مئی واقعات پر رپورٹ جاری کی۔
فرد جرم میں پی ٹی آئی رہنماؤں پر102 گاڑیوں کونقصان پہنچانےاور 26 سرکاری عمارتوں پرمنظم حملےکرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
فردجرم میں کہاگیا ہے کہ سانحہ 9 مئی میں1 66کروڑ56 لاکھ روپےمجموعی نقصان کا تخمینہ ہے۔
واضح رہے کہ9مئی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اڈیالہ جیل میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے موقع پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو کمرہ عدالت میں پیش کیاگیا۔عمرایوب، شیخ رشید،فواد چوہدری،زرتاج گل اور راجہ بشارت سمیت دیگر ملزمان بھی پیش ہوئے۔
وکلاء کےدلائل مکمل ہونے کےبعد جج امجد علی شاہ نے فرد جرم کمرہ عدالت میں پڑھ کر سنائی۔
عمران خان کے علاوہ شیخ رشید سمیت دیگر ملزمان پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔عمران خان سمیت دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیاہے۔
