گوہر اعجاز کا عوام دشمن IPPs معاہدوں پر نظر ثانی کا مطالبہ

سابق نگران وفاقی وزیر، معروف بزنس مین اور لیک سٹی کے روح رواں گوہر اعجاز  نے بجلی پیدا کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں یا آئی پی پیز  سے ہوئے غیر حقیقی اور عوام دشمن معاہدوں پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت ہر پاکستانی ان شرمناک معاہدوں کی وجہ سے اپنے بل میں فی یونٹ 24 روپے اضافی دینے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے اس وقت بجلی کا بل ہر گھر کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ شہباز شریف حکومت کے موجودہ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کو مخاطب کرتے ہوئے گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ وزیر موصوف نئی نجکاری سے پہلے آئی پی پیز معاہدوں کے حوالے سے قوم کو مطمئن کریں کیونکہ بجلی کے بلوں نے عوام کا کچومر نکال کر رکھ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سال میں 23 ہزار 400 میگاواٹ پر مبنی آئی پی پیز کی پیدا کردہ بجلی میں سے 50 فیصد سے بھی کم بجلی استعمال ہوئی ہے۔

توشہ خانہ نیا ریفرنس: عمران خان، بشریٰ بی بی نے گرفتاری کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ 5 ہزار میگاواٹ کے درآمدی کوئلے سے چلنے والے آئی پی پیز  پاور پلانٹس نے گزشتہ 2 سال میں 25 فیصد سے بھی کم صلاحیت کا استعمال کیا ہے، انکے مطابق 25 فیصد کم کیپسٹی پر چلنے کے باوجود آئی پی ہیز فل کیپسٹی چارجز  کے نام پر 692 ارب روپے وصول کر رہے ہیں، اسی طرح ونڈ آپریشنز 50 فیصد سے کم ہیں لیکن فی یونٹ اضافی چارجز کے ساتھ 175 ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح آر ایل این جی کے 50 فیصد کم صلاحیت پر چلنے کے باوجود آئی پی پیز کو 180 ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں۔

گوہر اعجاز نے سوال کیا کہ یہ ایک قومی المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ آئی پی پیز سے کیے گے معاہدوں کی وجہ سے پاکستان کے 24 کروڑ عوام سے سالانہ 2 ہزار ارب روپے وصول کیے جا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ  ملک سے محبت کرنے والا کوئی بھی باعزت شخص آئی پی پیز کے معاہدوں کی حمایت نہیں کرےگا۔

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ میرا یہ یقین یے کہ آئی پی پیز معاہدوں پر نظرثانی تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، بجلی کے ان نرخوں پر نہ تو انڈسٹری چل سکتی ہے نہ گھریلو صارفین اتنے بھاری بل دے سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ قوم کو یہ بتانا ضروری ہے کہ بند بجلی گھروں کو 2 ہزار ارب سالانہ ادائیگی کے ذمہ دارکون لوگ ہیں۔ یاد رہے کہ آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے پاکستان اس وقت دنیا بھر میں مہنگی ترین بجلی پیدا کرنیوالا ملک بن چکا ہے۔ اس وقت گھریلو صارفین کو بجلی 60 روپے فی یونٹ سے بھی زائد کے حساب سے چارج ہو رہی ہے، کمرشل صارفین کو بجلی 80 روپے فی یونٹ جبکہ انڈسٹریل صارفین کو 40 روپے فی یونٹ مل رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں اگر آئی پی پیز معاہدوں پر نظر ثانی نہ کی گئی تو پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہوجائے گا، صنعتیں بند ہونے کے قریب آچکی ہیں۔ پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2300 ارب روپے تک پہنچ گیا جس میں سے دو ہزار ارب روپے سے زائد کپیسٹی پے منٹس کی مد میں ادا کئے جانے ہیں، آج مہنگی ترین بجلی کی بڑی وجہ یہی آئی پی پیز ہیں۔ اور آئی پی پیز کے ساتھ کپیسٹی پے منٹس کے معاہدے ملک میں معاشی بحران کا بڑا سبب ہیں۔

Back to top button