پاکستان میں سونے کی قیمت 5 لاکھ روپے تولہ سے تجاوز کرنے کا امکان

سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر یقینی سیاسی و معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش نے سونے کو ایک بار پھر سب سے پرکشش اثاثہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی عالمی اور مقامی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ سونے کی طلب میں اضافے کے بعد عالمی منڈی میں ایک اونس سونے کی قیمت 4,480 امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار 10 گرام سونے کی قیمت چار لاکھ روپے کی حد عبور کر گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق دس گرام سونے کا بھاؤ چار لاکھ تین ہزار جبکہ فی تولہ قیمت 8500 روپے اضافے کے بعد چار لاکھ 71 ہزار روپے سے تجاوز کر گئی ہے ماہرین کے مطابق اگر سونے کی قیمتوں میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت پانچ لاکھ روپے فی تولہ کی حد پار کر سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ عالمی مالیاتی بحران کے بعد آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے سونے اور چاندی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ بظاہر عالمی مالیاتی رجحان ہے، مگر اس کی گونج پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگی میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ نتیجتاً، اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔
دنیا بھر میں سونے اور چاندی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ سونے کی قیمت میں گزشتہ ایک سال کے دوران 48 فیصد اور چاندی کی قیمت میں 58 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔بین الاقوامی منڈی میں فی تولہ سونا تقریباً 1700 ڈالر اور فی کلو چاندی 1900 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ پاکستان میں 24 قیراط سونا تقریباً پونے پانچ لاکھ روپے فی تولہ، جب کہ فی کلو چاندی ساڑھے 6 لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ "گزشتہ چند دنوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 35 سے 40 ہزار روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اپریل سے اب تک سونے کی قیمت میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا چکا ہے، جسے 1970 کی دہائی کے بعد سونے کی قیمتوں میں ہونے والا تیز ترین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی معاشی حالات کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان آئندہ پانچ برس تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ماہرین کے بقول رواں سال اب تک سونے کے ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) میں 64 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، جبکہ عالمی سطح پر سونے میں مزید سرمایہ کاری کا رجحان بدستور مضبوط دکھائی دے رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونا اب ایک ایسا ’’محفوظ سرمایہ‘‘ بن چکا ہے جو معاشی بے یقینی کے دور میں بھی اپنی قدر برقرار رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بڑی بڑے مالیاتی ادارے اب ڈالرز کی بجائےسونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں اس صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف اگست 2025 میں دنیا بھر کے مرکزی بینکوں نے 15 ٹن سے زائد سونا خریدا، جس سے سالانہ خریداری کی مجموعی مقدار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ "پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عالمی مارکیٹ سے جڑا ہے۔ چین، بھارت اور ترکی جیسے ممالک کے مرکزی بینک بھی بڑے پیمانے پر سونا خرید رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےہے۔ ان ممالک نے ڈالر کے بجائے سونا یا مقامی کرنسی میں تجارت شروع کر دی ہے، جس سے ڈالر کمزور اور سونا مضبوط ہو رہا ہے جبکہ عالمی تجارتی کشیدگی نے بھی سونے کو ایک بار پھر سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنا دیا ہے۔
ماہرین کے بقول ’سونے اور چاندی کی قیمت بڑھنے کی وجہ عالمی سطح پر جاری جنگی صورت حال بھی ہے۔ پہلے یوکرین اور روس جنگ کی وجہ سے سونے کی قیمت بڑھی، پھر پاکستان انڈیا جنگ نے ملک میں سونے کی قیمت بڑھائی، اس کے بعد ایران اسرائیل جنگ سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافے کی وجہ بنی اور پھر امریکہ اور چائنا ٹیرف وار نے سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ میں معاشی استحکام نہ آیا تو چند ماہ میں سونے کی قیمت پانچ ہزار فی اونس تک بڑھ سکتی ہے۔‘
