کامران ٹیسوری کے خلاف گولڈ سکینڈل کیس دوبارہ کھلنے کا امکان

سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کے خلاف گولڈ سکینڈل سے متعلق تحقیقات دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کراچی میں کئی پرانے مقدمات اور انکوائریاں دوبارہ فعال کی جا رہی ہیں، جن میں تقریباً آٹھ برس قبل درج ہونے والی بعض شکایات بھی شامل ہیں۔ انہی مقدمات میں سابق گورنر سندھ اور ان کی اہلیہ کے خلاف درج کی گئی انکوائری بھی شامل ہے جس پر ماضی میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔
ذرائع کے مطابق سابق گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری حال ہی میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کی گورنر شپ کی مدت ختم ہونے کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ آیا ایف آئی اے کراچی ان کے خلاف زیر التواء انکوائری کو دوبارہ فعال کرے گی یا تفتیشی حکام مزید انتظار کی پالیسی اختیار کریں گے۔ یاد رہے کہ دبئی میں مقیم سونے کے تاجر حنیف مرچنٹ کی درخواست پر 2018 میں ایف آئی اے کراچی کے کارپوریٹ کرائم سرکل میں ایک انکوائری درج کی گئی تھی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ میسرز انٹرنیشنل ٹاپ نامی کمپنی کے ساتھ مل کر تقریباً چار لاکھ تولہ 24 قیراط خالص سونا دبئی سے پاکستان درآمد کیا گیا۔ الزام کے مطابق اس سونے کو پاکستان میں زیورات کی شکل میں تبدیل کر کے دوبارہ دبئی برآمد کیا جانا تھا، تاہم شکایت کنندہ کا کہنا تھا کہ سونا واپس دبئی نہیں بھیجا گیا اور اس حوالے سے مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ فراڈ کے شواہد موجود ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس انکوائری کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی اور معاملہ طویل عرصہ تک التواء کا شکار رہا۔ بعد ازاں 2021 کے بعد ایف آئی اے نے شکایت کنندہ حنیف مرچنٹ کے قریبی گولڈ ڈیلرز کے خلاف حوالہ ہنڈی کے مبینہ کاروبار پر کارروائیاں شروع کر دیں۔ ایف آئی اے کی ان کارروائیوں کے بعد بعض گولڈ ڈیلرز نے اپنا کاروبار پاکستان سے دبئی منتقل کر لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق 2018 میں کارپوریٹ کرائم سرکل میں شروع کی گئی انکوائری نامعلوم وجوہات کی بنا پر بعد ازاں بند کر دی گئی تھی۔ تاہم 2022 میں، جب کامران خان ٹیسوری سندھ کے گورنر کے عہدے پر فائز تھے، ایف آئی اے کے سٹیٹ بینک سرکل کراچی میں انکوائری نمبر 16/2022 کے تحت ایک نئی انکوائری رجسٹرڈ کی گئی۔
اس نئی انکوائری میں سابق گورنر کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ کا نام بھی شامل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس انکوائری کا دائرہ کار سونے کی درآمد، مالی لین دین اور ممکنہ منی لانڈرنگ کے پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایف آئی اے کا سٹیٹ بینک سرکل عملی طور پر ختم کیا جا رہا ہے اور اسے کمرشل بینکنگ سرکل میں ضم کرنے کی کارروائی جاری ہے۔ اس تنظیمی تبدیلی کے باعث بھی بعض تحقیقات میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا ہوئی۔
ریڈیو حملہ کیس:KPK پولیس کی نامزدگی کے بعد سہیل آفریدی مشکل میں
ذرائع کے مطابق شکایت کنندہ حنیف مرچنٹ نے ایف آئی اے کراچی کو اس کیس سے متعلق متعدد دستاویزی شواہد فراہم کیے تھے۔ مزید یہ کہ انٹرپول کی جانب سے بھی اس معاملے کے حوالے سے حکومت پاکستان کو بعض معلومات اور کارروائی سے متعلق مراسلہ بھیجا گیا تھا۔ اب جبکہ کامران خان ٹیسوری گورنر سندھ کے عہدے سے سبکدوش ہو چکے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ ایف آئی اے کراچی اس معاملے میں تفتیش کو عملی طور پر آگے بڑھاتی ہے یا ماضی کی طرح یہ انکوائری بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر خاموشی سے بند کر دی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر فراہم کردہ شواہد قابلِ اعتبار ثابت ہوتے ہیں تو تفتیش کے بعد مقدمہ درج ہونے کا امکان بھی موجود ہے، تاہم حتمی فیصلہ تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
