سولر صارفین کیلئے خوشخبری: حکومت کا نیٹ میٹرنگ پر یو ٹرن

 

 

 

سولر پالیسی کے حوالے سے مسلسل قلابازیاں کھانے والی وفاقی حکومت نے سخت ترین عوامی رد عمل آنے کے بعد اب یہ اعلان کیا ہے کہ جو صارفین سابقہ قواعد کے تحت سولر سسٹم نصب کروا چکے ہیں، انہیں اپنے موجودہ معاہدوں کی مدت مکمل ہونے تک پرانے طریقۂ کار کے تحت ہی بل بھیجے جائیں گے۔ بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا نے ترمیمی قواعد جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ صارفین پر نئے قواعد کا اطلاق ان کے معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد ہو گا، جبکہ نئی پالیسی کا نفاذ نئے صارفین پر کیا جائے گا۔

 

وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ پرانے سولر صارفین کے سخت احتجاج کے بعد کیا ہے کیونکہ حکومت پرانے معاہدوں کی شرائط تبدیل نہیں کر سکتی تھی۔ اس حکومتی فیصلے کے خلاف سینکڑوں سولر صارفین عدالتوں میں بھی چلے گئے تھے۔ یاد رہے کہ رواں ماہ 8 فروری کو نیپرا نے تقریباً ایک دہائی پرانے نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کرتے ہوئے نیٹ بلنگ کا نیا نظام متعارف کرایا تھا، جس پر سولر صارفین اور توانائی ماہرین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

 

نیٹ میٹرنگ پالیسی کے تحت سولر صارفین اپنے اضافی یونٹس ایک کے بدلے ایک کی بنیاد پر ایڈجسٹ کر سکتے تھے، تاہم نیٹ بلنگ کے تحت بجلی کمپنیاں اضافی بجلی قومی اوسط قیمت، یعنی تقریباً 10 سے 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدیں گی، جبکہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی پر 37 سے 55 روپے فی یونٹ تک کے ریٹیل ٹیرف لاگو ہوں گے۔ نیٹ بلنگ پالیسی اپنانے کے اعلان پر ملک بھر میں سولر صارفین کی جانب سے سخت تنقید کی گئی تھی۔

 

چنانچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی، جس کے بعد نیپرا سے نئی پالیسی ہر نظر ثانی کی درخواست کی گئی۔ اب نیپرا نے ترمیمی قواعد میں اعلان کیا کہ پرانے سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی ان کے معاہدوں کی مدت پورہ ہونے تک برقرار رہے گی۔ نیپرا کے مطابق مجوزہ ترمیم کو نو فروری 2026 سے مؤثر تصور کیا جائے گا اور اسے ماضی سے لاگو سمجھا جائے گا تاکہ وہ صارفین جو بجلی پیدا بھی کرتے اور استعمال بھی کرتے ہیں ان کے بلنگ کے طریقہ کار میں کوئی فوری تبدیلی نہ ہو۔

 

یاد رہے کہ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ نظام میں یہ پہلی تبدیلی نہیں ہے۔ گزشتہ برس مارچ میں وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کی خریداری کی قیمت 11 روپے فی یونٹ مقرر کر دی تھی۔ تاہم حالیہ تبدیلی کو اب تک کی سب سے بڑی پالیسی شفٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ نئے نیٹ بلنگ نظام کے تحت اگر کوئی صارف گرڈ کو فراہم کی گئی بجلی کے مقابلے میں کم بجلی استعمال کرے تو اضافی رقم یا تو اگلے بل میں شامل کر دی جائے گی یا ہر تین ماہ بعد ادا کی جائے گی۔ نیپرا نے سولر سسٹم کی زیادہ سے زیادہ حد ایک میگاواٹ مقرر کی ہے اور یہ شرط عائد کی ہے کہ سسٹم کی گنجائش صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

 

توانائی شعبے کی ماہر عافیہ ملک کے مطابق نیٹ میٹرنگ میں ایکسپورٹ اور امپورٹ یونٹس منہا ہو جاتے تھے، تاہم نیٹ بلنگ میں ایسا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ ان کے بقول، گرڈ سے لی جانے والی بجلی پر وہی نرخ لاگو ہوں گے جو نان سولر صارفین ادا کرتے ہیں، جبکہ اضافی بجلی قومی اوسط قیمت پر خریدی جائے گی، جو اس وقت تقریباً 11 روپے فی یونٹ ہے۔ دوسری جانب صارفین کو گرڈ سے لی گئی بجلی پر 40 سے 50 روپے یا اس سے زائد فی یونٹ ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے مالی فائدہ محدود ہو جاتا ہے۔

 

توانائی کے شعبے سے منسلک زیان بابر کے مطابق نئے نظام میں ڈسکوز سولر صارفین سے اضافی بجلی خریدیں گی، تاہم صارف کی اپنی کھپت کا بل عام مہنگے نرخوں پر ہی بنایا جائے گا۔ البتہ فراہم کردہ بجلی کی رقم بل سے منہا کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق نئے قواعد کے تحت صارفین کو اپنی منظور شدہ حد سے زیادہ صلاحیت کا سولر سسٹم نصب کرنے کی اجازت نہیں ہو گی تاکہ گھریلو صارفین ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر کے گرڈ کو فراہم نہ کریں۔ ملک میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور سولر پینلز کی کم ہوتی لاگت کے باعث حالیہ برسوں میں شمسی توانائی کی جانب رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔

” مرد خواتین کے محافظ ہیں قاتل نہیں” سپریم کورٹ کا بیوی کے قاتل کی سزا برقرار رکھنے کافیصلہ

ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس وقت ملک میں 7000 میگاواٹ بجلی سولر سسٹمز سے پیدا کی جا رہی ہے، جس میں نیٹ میٹرنگ اور نان نیٹ میٹرنگ دونوں صارفین شامل ہیں۔ عافیہ ملک کے مطابق نئی نیٹ بلنگ پالیسی سولر صارفین کے لیے زیادہ پرکشش نہیں رہی، جس کے نتیجے میں امکان ہے کہ صارفین بیٹری اسٹوریج کے ساتھ آف گرڈ یا کم از کم گرڈ انحصار والے نظام کو ترجیح دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگی بجلی کے تناظر میں گرڈ سے کھپت بڑھانے کا حکومتی ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔ زیان بابر کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا نئی پالیسی واقعی گرڈ سے بجلی کی کھپت میں اضافہ کر پائے گی یا نہیں، تاہم واضح ہے کہ توانائی کے شعبے میں یہ تبدیلی صارفین، تقسیم کار کمپنیوں اور حکومت تینوں کے لیے دور رس اثرات کی حامل ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button