خاندان کی صلح پر حکومت کا ناظم جوکھیو کیس لڑنے کا اعلان

ناظم جوکھیو قتل کیس کے حوالے سے حکومت نے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ناظم جوکھیو کے خاندان نے صلح بھی کرلی تو حکومت اپنی سطح پر اس کیس کو لڑے گی۔
سینیٹ اجلاس کے دوران انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ سندھ میں صحافی کے قتل کا معاملہ اہم ہے، اس میں پولیس ناکام نظر آ رہی ہے، اس صوبے سے کبھی کوئی سینئر آفیشل نہیں آتا ہے۔
اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے ایم پی اے جام اویس اور عبدالکریم نے عرب مہمانوں کو بلایا، سندھ میں صرف پرندوں کا شکار نہیں ہوتا بلکہ عرب سے آئے شہزادے جو کرتے ہیں ان پر بریفنگ ہونی چاہئے، سندھ میں شکار پر آئے عرب شہزادوں کے کاموں کو بتاتے شرم محسوس ہوتی ہے۔
سیف اللہ ابڑو نے اجلاس کو بتایا کہ ایم پی ایز کے گارڈز ناظم جوکھیو کو فارم ہاؤس میں پکڑ کر اندر لے گئے، افضل اپنے بھائی ناظم کو لے کر گیا اس نے اپنے چھوٹے بھائی کہ چیخیں سنیں، ناظم جوکھیو کے اہل خانہ نے بھی جسد خاکی کو نیشنل ہائی وے پر رکھا تو ایف آئی آر درج ہوئی۔
جسٹس عائشہ تقرری، پاکستان بارکونسل کا 6 جنوری کو ہڑتال کا اعلان
اس موقع پر شیریں مزاری نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سندھ پولیس کو مقتول ناظم جوکھیو کے خاندان کی حفاظت کی ہدایت کی، ناظم جوکھیو کا خاندان قاتلوں سے صلح کرتا ہے تو ریاست اس کیس کو آگے بڑھائے گی۔
