حکومت کا سولر صارفین پرحملہ،نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم

وفاقی حکومت نے سولر صارفین کیلئے رائج نیٹ میٹرنگ سسٹم مکمل طور پر ختم کر کے نیا نیٹ بلنگ فارمولا لانے کا فیصلہ کر لیا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کو محدود کرنے کے لیے مرتب کردہ ریگولیشنز 2025 کا مسودہ جاری کر دیا، جس کے تحت نیٹ میٹرڈ سولر صارفین کے سائز، معاہدے کی مدت اور ادائیگی کی شرح میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔

نیپرا کی جانب سے جاری کئے گئے مسودے میں نیٹ میٹرڈ سولر پاور صارفین کو دی جانے والی ادائیگی تقریباً نصف کرنے کے علاوہ نئے معاہدوں کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ تجاویز منظور ہونے کے بعد صارفین کو اپنے منظور شدہ لوڈ سے زائد صلاحیت کا سولر نیٹ میٹرنگ سسٹم نصب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یعنی کہ 10 کلوواٹ کا صارف زیادہ سے زیادہ 10 کلوواٹ کا ہی سولر سسٹم نصب کر سکے گا۔

نئے ضوابط کے تحت نیٹ میٹرنگ صارفین کو بجلی کی فروخت کے عوض اوسط قومی انرجی پرچیز پرائس دی جائے گی، جس کے نتیجے میں فی یونٹ ادائیگی 26 روپے کے بجائے تقریباً 13 روپے رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ ڈسکوز کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ زیادہ نیٹ میٹرنگ والے فیڈرز پر مزید درخواستیں مسترد کر سکیں گے۔

نیپرا حکام کے مطابق اس وقت سسٹم سے منسلک سولر نیٹ میٹرنگ کی مجموعی صلاحیت تقریباً 6 ہزار میگاواٹ ہے، جبکہ آف گرڈ سولر کو شامل کیا جائے تو یہ صلاحیت 13 ہزار میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اقدامات کے نتیجے میں شمسی توانائی کی قابلِ استعمال صلاحیت میں تقریباً 50 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں لاکھوں صارفین سولر سسٹم نصب کر چکے ہیں اور ملک میں بجلی کے حصول کیلئے قومی گرڈ پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ سسٹم سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مالی نقصان ہو رہا ہے جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت اب نیٹ میٹرنگ ختم کر کے اس کی جگہ پر ’نیٹ بلنگ‘ کا نظام لا رہی ہے۔

واضح رہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارف دن کے وقت اپنی اضافی پیدا ہونے والی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرتا ہے اور رات یا ضرورت کے وقت گرڈ سے بجلی استعمال کرتا ہے۔ مہینے کے اختتام پر صارف کے برآمد شدہ یونٹس اور امپورٹ شدہ یونٹس کو آپس میں منہا کیا جاتا ہے۔ اگر صارف نے زیادہ بجلی گرڈ کو دی ہو تو اس کا بل کم ہو جاتا ہے یا بعض صورتوں میں صفر بھی آ جاتا ہے۔موجودہ نظام میں سولر صارفین کو برآمد شدہ بجلی پر وہی ریٹ ملتا ہے جو انہیں بجلی خریدنے پر ادا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم حکومت اب نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نظام متعارف کرانے جا رہی ہے۔ اس نئے نظام کے تحت سولر صارف کی درآمد شدہ بجلی پر قومی ٹیرف لاگو ہو گا جبکہ برآمد شدہ بجلی کے یونٹس کو ایک علیحدہ مقررہ ریٹ یعنی 27 روپے فی یونٹ پر خریدا جائے گا۔نئے بلنگ فارمولے کے مطابق سب سے پہلے صارف کے استعمال شدہ یونٹس پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جائے گا۔ اس کے بعد سولر صارف کی جانب سے گرڈ کو دی گئی بجلی کے یونٹس کا بل 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کیا جائے گا۔ اگر منفی کرنے کے بعد بل باقی رہتا ہے تو صارف کیلئے اس کی ادائیگی لازمی ہو گی۔

تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام کے لاگو ہونے کے بعد سولر صارفین کے بجلی کے بلوں میں کیا تبدیلی ہو گی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شمسی توانائی سیکٹر سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس بات کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر ایک عام گھریلو صارف ماہانہ 300 یونٹ بجلی استعمال کرتا ہے اور اس نے 10 کے وی کا سولر سسٹم لگا رکھا ہے۔ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام میں فرض کریں صارف نے 300 یونٹ استعمال کیے اور 250 یونٹ گرڈ کو برآمد کیے۔ اس صورت میں بل صرف 50 یونٹ کا بنتا ہے جس پر ٹیکسز سمیت اندازاً تین سے چار ہزار روپے بل آتا ہے، بعض اوقات یہ بل اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔‘’نئے نیٹ بلنگ نظام میں 300 یونٹ پر قومی ٹیرف کے مطابق بل بنایا جائے گا، جو تقریباً 12 سے 15 ہزار روپے تک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد 250 یونٹ برآمد شدہ بجلی کو 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے منہا کیا جائے گا یعنی تقریباً چھ سے سات ہزار روپے بنے گا۔ اس طرح صارف کو باقی رقم ادا کرنا ہو گی جو اندازاً پانچ سے سات ہزار ہو سکتی ہے۔‘دوسرے لفظوں میں اب نئے نظام میں وہ صارف جو پہلے بہت کم بل ادا کرتا تھا، اسے اب نمایاں طور پر زیادہ رقم ادا کرنا پڑے گی۔

حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کی بجائے نیٹ بلنگ کی نئی پالیسی لانے کی خبروں نے عوام کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے سولر صارفین کیلئے ایکسپورٹ ٹیرف کم رکھا گیا تو سولر سسٹم کی واپسی کی مدت طویل ہو جائے گی جس سے گھریلو صارفین کے لیے سولر لگانے کی کشش کم ہو سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے شمسی توانائی کی صلاحیت کی حد میں 50 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت کو نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کو مکمل ختم کرنے کی بجائے اس میں موجود کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیں تاکہ عوام حاصل ریلیف سے محروم نہ ہوں۔

 

Back to top button