حکومت کابحران پرقابوپانےکیلئے2لاکھ ٹن چینی درآمدکرنےکافیصلہ

چینی کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے مزید 2 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے ترجمان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ملک میں چینی کی دستیابی کو یقینی بنانا اور قیمتوں میں توازن برقرار رکھنا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ چینی کی درآمد کے لیے ٹینڈر کھل چکے ہیں اور عمل حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ درآمد شدہ چینی کی پہلی کھیپ ستمبر کے اوائل میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ سے خریداری کے دوران رعایت (ڈسکاؤنٹ) بھی حاصل کی گئی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے صوبائی حکام کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے، جب کہ چینی کی خفیہ ذخیرہ اندوزی پر ایف آئی آر درج کرنے کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔

اگرچہ حکومت نے چینی کا فی کلو سرکاری نرخ 173 روپے مقرر کیا ہے، مگر ملک کے مختلف شہروں میں چینی اس قیمت پر دستیاب نہیں۔

کراچی میں چینی فی کلو 190 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جب کہ اسلام آباد میں یہ قیمت 195 روپے تک جا پہنچی ہے۔

لاہور کے بازاروں میں چینی کی شدید قلت ہے، دکانوں پر سرکاری نرخ تو درج ہیں، لیکن چینی دستیاب نہیں۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اکبری منڈی سے چینی کی سپلائی کئی دنوں سے معطل ہے۔

اکبری منڈی کے تاجروں نے دعویٰ کیا ہے کہ شوگر ملیں چینی فروخت ہی نہیں کر رہیں، جبکہ شوگر ڈیلرز نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں چینی کی قلت اور قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔

پنجاب میں سرکاری نرخ سے زائد قیمت پر چینی فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں 149 افراد گرفتار کیے، 27 مقدمات درج کیے، اور 2,665 افراد پر جرمانے عائد کیے۔

Back to top button