حکومت کا گیس سیکٹر کا 2800 ارب کا قرضہ صارفین پر ڈالنے کا فیصلہ

بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت نے ایک مرتبہ پھر گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے تاکہ گیس سیکٹر کا 2800 ارب روپے کا بھاری گردشی قرضہ ختم کیا جا سکے۔

 اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی اتحادی حکومت نے بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے بھی بجلی صارفین کی کمر توڑی تھی اور سارا بوجھ انہی پر ڈال دیا تھا۔ اب گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ اتارنے کے لیے شہباز حکومت کے پاس جو تجاویز زیر غور ہیں انکے مطابق یا تو صارفین پر 5 سے 10 روپے کی خصوصی پٹرولیم لیوی عائد کی جائے گی، یا پھر سیدھا سیدھا گیس کی قیمت بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ منصوبے کے مطابق گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے حکومت بینکوں سے قرض لے گی جس کی ادائیگی عوام پیٹرولیم لیوی یا گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں کریں گے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے حکومت کو یہ تجویز خصوصی ٹاسک فورس نے دی ہے جس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظفر اقبال، وزیر نجکاری محمد علی، اور سی پی پی اے، ایس ای سی پی، اور نیپرا کے ماہرین شامل ہیں۔ حکومت کے زیر غور تجویز کے مطابق گیس سیکٹر کے 2800 ارب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے قرض لیا جائے گا۔ اس قرض کی ادائیگی عوام اگلے سات سالوں میں لیوی یعنی ٹیکس کے ذریعے کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ حکومت گیس کی قیمتوں میں اضافے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات پر 5 سے 10 روپے فی لیٹر تک ٹیکس عائد کر دے۔ اگر 1روپیہ فی لیٹر لیوی لگائی جائے تو سالانہ 18 ارب روپے اکٹھے ہوں گے اور اگر 10روپے فی لیٹر لیوی لگائی جائے تو 180 ارب روپے جمع ہوں گے۔ حکومت کو گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی واپسی کے لیے سالانہ 250 ارب روپے اکٹھے کرنا ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی ہونے جا رہا ہے کہ گیس صارفین کو دی جانے والی 160 ارب روپے کی موجودہ کراس سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کرتے ہوئے دسمبر 2026 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اگر تمام صارفین سے اوسط گیس قیمت یعنی 1890 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو وصول کی جائے، تو گردشی قرضہ دوبارہ پیدا نہیں ہو گا۔ تاہم سیاسی حکومت کے لیے یہ قرض ادا کرنے کے لیے عوام پر ایک نیا ٹیکس لگانا مشکل فیصلہ ہو گا۔ یہ سوال بھی زیر غور ہے کہ اگر گردشی قرضے کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو کیا موجودہ غیر مؤثر سوئی گیس کمپنیاں اسی طرح کام کرتی رہیں گی یا انہیں تقسیم اور ترسیل کے نظام سے الگ کر کے نجی شعبے کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اس کا فیصلہ ٹاسک فورس کرے گی تاکہ مستقبل میں گردشی قرضہ دوبارہ پیدا نہ ہو۔

دوسری جانب حکومت کافی عرصے سے بند گیس کنیکشنز کی دوبارہ بحالی پر غور کر رہی ہے۔ حکومتی منصوبہ یہ ہے کہ درآمدی گیس کو مقامی گیس کے ساتھ ملا کر گیس صارفین کو درمیانی قیمت پر گیس فراہم کی جائے تاکہ تیل و گیس کے شعبے کو اقتصادی استحکام حاصل ہو سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کنیکشنز کی بحالی پر غور کرنے کی ایک وجہ سسٹم میں وقتی طور پر گیس کی بہتری ہے۔ ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں ملک میں گیس کی طلب اور رسد میں کچھ توازن پیدا ہوا ہے، جس کے باعث بعض درآمدی ایل این جی کارگو بھی منسوخ کرنا پڑے ہیں۔

Back to top button