حکومت کا نئے گیس صارفین کو سستی آر ایل این جی دینے کا فیصلہ

حکومت نے گھریلو اور تجارتی شعبوں میں نئے گیس کنکشن حاصل کرنے والوں کو درآمد شدہ گیس (آر ایل این جی) فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایل پی جی کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق، اس اقدام کے تحت نئے گیس صارفین کو آر ایل این جی فراہم کی جائے گی، جس کی قیمت ایل پی جی کے مقابلے میں 31.25 فیصد کم ہوگی۔ تاہم، نئے صارفین موجودہ گھریلو صارفین کے برابر نہیں سمجھے جائیں گے، جن کے لیے گیس نرخ 12 مختلف سلیب کیٹیگریز کے تحت مقرر ہیں۔

ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے بتایا کہ ملک میں اس وقت درآمد شدہ آر ایل این جی کی اضافی مقدار دستیاب ہے، جسے مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے حکومت نے 2021 سے عائد نئی گیس کنکشنز پر پابندی ختم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

2034 تک بجلی 30 روپے یونٹ ہو سکتی ہے، پاور ڈویژن کی رپورٹ

آر ایل این جی کی موجودہ قیمت تقریباً 3300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، جب کہ ایل پی جی کی قیمت 4800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، یعنی آر ایل این جی تقریباً 1500 روپے سستی ہے۔ مزید یہ کہ آر ایل این جی پائپ لائن کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جب کہ ایل پی جی کا انحصار سلنڈرز پر ہوتا ہے، جو بعض اوقات ناقص معیار کی وجہ سے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے اس فیصلے کی اصولی منظوری دے دی ہے، اور اب اس کی باقاعدہ منظوری کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) سے لی جائے گی۔ منظوری کے بعد حکومت ایک میڈیا مہم شروع کرے گی تاکہ صارفین کو ایل پی جی کے بجائے آر ایل این جی استعمال کرنے کی ترغیب دی جا سکے۔

Back to top button