حکومت باغی PTI اراکین اسمبلی کو منانے میں ناکام

وزیراعظم عمران خان کے ایما پر حکومتی وزراء کی جانب سے منتوں، ترلوں، تڑیوں اور دھمکیوں کے باوجود اب تک تحریک انصاف کے منحرف ہونے والے اراکین قومی اسمبلی میں سے ایک بھی رکن پارٹی میں واپس جانے پر آمادہ نہیں ہو سکا۔ چنانچہ پارٹی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ باغی اراکین کو جاری کیے گے شوکاز نوٹسز میں دی گئی سات دن کی ڈیڈ لائن پوری ہونے پر عمران خان بطور چیئرمین پی ٹی آئی ان ممبران کی اسمبلہ رکنیت ختم کروانے کے لیے سپیکر کو خط لکھ دیں گے تاکہ ووٹنگ والے دن یہ ان کے خلاف اپنا ووٹ نہ ڈال سکیں۔
وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر کرنے والی اپوزیشن نے دعوی کیا ہے کہ تمام تر حکومتی لالچ اور دباؤ کے باوجود تحریک انصاف کے باغی اراکین کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب منحرف اراکین کی تعداد 30 تک پہنچ گئی یے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ باغی اراکین کو منظرعام پر لانا ان کی غلطی تھی کیونکہ ایسا کرنے سے حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل اسٹریٹجی کے مطابق حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے منحرف اراکین اسمبلی کی شناخت خفیہ رکھی جانی تھی تاکہ ووٹنگ والے دن وہ ایوان میں آ کر وزیر اعظم کے خلاف ووٹ کاسٹ کر دیتے۔ تاہم جب حکومت نے یہ الزام عائد کر دیا کہ پی ٹی آئی کے کئی اراکین اسمبلی کو سندھ ہاؤس میں قید کر دیا گیا ہے تو پھر ان کی شناخت ظاہر کرنا پڑ گئی جس کے بعد حکومت نے کاؤنٹر سٹریٹجی تیار کرلی۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ اب جو حکومتی اراکین اسمبلی منحرف ہو کر ان سے رابطہ کر رہے ہیں ان کے نام خفیہ رکھے جا رہے ہیں تاکہ مسائل سے بچا جاسکے۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے منحرف رکن کے نام سامنے آنے کے بعد سے وزیراعظم کے ایماء پر وفاقی وزراء انہیں مسلسل منانے، ڈرانے، دھمکانے اور تڑیاں لگانے میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایک ممبر بھی اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہو سکا۔ چند روز پہلے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی کہ 7 منحرف اراکین اپنی غلطی تسلیم کر کے پارٹی میں واپس آنے پر آمادہ ہو گئے ہیں، جھوٹا ثابت ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کے منحرف ایم این اے رمیش کمار نے کہا ہے کہ باغی اراکین قومی اسمبلی کی تعداد اب بڑھ کر 35 ہو چکی ہے جبکہ منحرف ارکان میں سے ایک بندہ بھی واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے ضمیر کے مطابق عمران خان کے خلاف جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر ہمیں ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو ہم قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہو کر بھی حکومت کی اکثریت ختم کروا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ووٹ ڈالیں یا استعفی دیں، دونوں صورتوں میں عمران کی وزارت عظمی نہیں بچتی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے باغی رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بھی واضح کیا ہے کہ منحرف اراکین میں سے کوئی بھی واپس جانے کو تیار نہیں ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ باغی اراکین میں سے کسی کا حکومت کے ساتھ رابطہ نہیں لیکن انہیں ادھر ادھر سے دھمکیاں ضرور موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم خود اہنے لوگوں کو باغی اراکین کے خلاف ایکشن لینے پر اکسا رہے ہیں۔ نور عالم نے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہم لوگوں کیساتھ کتوں والا سلوک نہ کریں اور نہ ہی ہمیں ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انکے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور اگر کسی فرد کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار عمران خان ہوں گے۔ نور عالم خان کا کہنا تھا کہ یہ ہمیں مائوں اور بہنوں کی گالیاں نکالنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی جماعت میں واپس جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔
تحریک انصاف کے ایک اور منحرف رکن اسمبلی احمد حسین ڈیہڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے مجھ پر پیسے لینے کا الزام لگایا ہے حالانکہ میں نے 40 کروڑ روپے ماکیت کی اپنی ملکیتی زمین مفت میں ریسکیو 1122 کو دفتر بنانے کے لیے دی تھی۔ مجھے اس کا صلہ یہ ملا کہ حکومت نے میرے گھر پر غنڈہ بریگیڈ سے حملہ کرایا ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں گالیاں دینے کے بعد حکومت کس منہ سے ہماری واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے، انکا کہنا تھا کہ عمران خان اگر انسان کو انسان کی نظر سے دیکھتے، شیرُو کتے کی نظر سے نہ دیکھتے، تو آج انکے یہ حالات نہ ہوتے۔
منحرف ممبران اسمبلی واپس آ جائیں معاف کر دوں گا
دوسری جانب کراچی پولیس نے تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کی کراچی میں باتھ آئی لینڈ میں واقع رہائش گاہ پر حملہ کرنے اور زبردستی اندر داخل ہونے کے الزام پر اراکین سندھ اسمبلی سمیت درجنوں افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی ٹیم اتوار کی رات کو باتھ آئی لینڈ میں سرکاری افسران کی رہائش گاہوں کے قریب گشت کر رہی تھی کہ انہیں اطلاع ملی کہ پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی شاہنواز جدون اور سعید احمد 50 سے 60 مسلح افراد کے ہمراہ رمیش کمار وانکوانی کے گھر میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے پی ٹی آئی کے اراکین کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے رمیش کمار کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی اور پھر زبردستی انکے گھر میں داخل ہو گے اور انہیں زبردستی باہر لے جانے کی دھمکی دی۔ انہوں نے رمیش کمار وانکوانی سے کہا کہ اگر انہوں نے تحریک عدم اعتماد پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف ووٹ دیا تو وہ اور اس کے اہل خانہ کو نہیں چھوڑیں گے۔
government failed to convince rebel PTI assembly members
