حکومت نے ہر ایک سے بگاڑی، کسی پر تو اعتماد کرنا چاہئے

حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد حوالے سے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے ہر ایک سے بگاڑ رکھی ہے، کسی پر تو اعتماد کرنا چاہئے، اپوزیشن کے پاس تحریک عدم اعتماد کے لیے اراکین مطلوبہ تعداد سے زائد ہیں‌۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران ق لیگ کے سینئر رہنما چودھری پرویز الٰہی نے بتایا کہ ایک بندہ گھبرایا پھر رہا ہے اور ابھی ہوا کچھ نہیں ہے، بہت ساری چیزیں اور بہت سارے لوگوں کو آن بورڈ لایا جا رہا ہے، جس کے لیے وقت تو لگے گا، ہم نے ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا ہے، کم ازکم کسی پر اعتماد کرنا چاہئے۔

چودھری پرویز الٰہی نے بتایا کہ اگر پارٹیاں آپس میں بیٹھتی ہیں تو کچھ لو اور کچھ دو ہوتا ہے، جس کو پیش کش قبول کرنی ہے اس کو سوچنا چاہئے ملک کے لیے کیا بہتر ہے، آصف زرداری نے سب سے پہلے کہا تھا کہ وزارت اعلیٰ ان کو دی جائے پھر مسلم لیگ (ن) نے بھی یہی کہا لیکن حکومت کے فیصلے کا انتظار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اکیلے فیصلے نہیں کریں گے بلکہ ہم سب مل کر فیصلہ کریں گے اور اگر حکومت کی کوئی پیش کش ہوئی تو ہم سب کے سامنے رکھیں گے، مسلم لیگ (ن) کوئی پیش کش کرتی ہے تو ضمانت آصف علی زرداری صاحب دیں گے، پکی ضمانت ہے اور انہوں (آصف علی زرداری) نے کہا ہے کہ اگر ان کا ساتھ نہیں دیتے تو میں اس گیم میں نہیں ہوں گا۔

وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ہم دو مرتبہ ملے ہیں لیکن کچھ نہیں کہا، وہ کہتا ہے کہ میں کرکٹ کھیلتا تھا تو اعتماد تھا لیکن جب کرکٹ میں لائن لگتی ہے تو پوری لائن لگتی ہے، نیب کو کہا گیا ہے کہ مونس الہٰی کو پکڑو اور ان کی جانب سے یہ فرمان گیا ہے کہ کوشش کریں گے کوئی چیز نکل آئے گی حالانکہ نیب نے کلیئر کردیا تھا۔

پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ‌ بنانے کیلئے پنجاب میں‌ بینرز کی بہار

پرویز الہٰی نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس 172 سے زیادہ تعداد میں لوگ ہیں اور نمبر سوچ سے زیادہ ہیں، ہم نے جو محسوس کیا ہے اور دیکھا ہے، بڑے سرپرائزز آنے ہیں دیکھ لینا، ترین گروپ ان کو ہٹا کر دم لے گا، ان کے ساتھ کوئی نہیں ہے، عمران خان نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے، تحریک انصاف ابھی سکتے میں ہے، اگر وزارت اعلیٰ ملی تو دو سال ہیں اور مجھے جو کمٹمنٹ ملے گی وہ پوری کروں گا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان جس طرح دوڈ دھوپ کررہے ہیں تو یہ مشکل میں ہونے کی نشانی ہے اور وہ سو فیصد مشکل میں ہیں۔

Back to top button