بڑھتی کرپشن اور نااہلی، PTIکی خیبرپختونخوا حکومت کنگلی ہو گئی

خیبر پختونخواہ حکومت میں شامل لوگوں کی کرپشن کی وجہ سے صوبائی حکومت کنگال ہوتی نظر آتی ہے،مبینہ کرپشن اور مالی بدانتظامی کی وجہ سے جہاں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سخت عوامی تنقید کی زد میں ہے وہیں بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی وجہ سے صوبہ معاشی مشکلات کی جانب بڑھتا دکھائی دیتاہے۔ کے پی کے میں بڑھتی ہوئی کرپشن کے بعد کئی پی ٹی آئی اراکین بھی نیب کے ریڈار پر آ گئے ہیں، نیب نے صوبے میں مبینہ کرپشن اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی کرپشن بارے متعدد شکایات سامنے آنے کے بعد قومی احتساب بیورو نے بھی اپنی توپوں کا رخ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب موڑ دیا ہے، نیب نے خیبرپختونخوا میں مبینہ کرپشن اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پرجہاں سوات سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی اور ایک وزیر کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے وہیں ٹی ایم اے کرک کو بھی مبینہ کرپشن پر نوٹس جاری کردیا ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق ادارے نے سوات سے تعلق رکھنے والے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی اور سابق وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم اور وزیر معدنیات ڈاکٹر امجد کے خلاف انکوائری شروع کردی ہے۔ ذرائع کے بقول دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف نیب کو شکایات موصول ہوئی تھیں، جن کی ابتدائی جانچ کے بعد سوالنامے ارسال کیے گئے تھے۔ تاہم دونوں کی جانب سے نیب کو جواب نہیں دیا گیا، جس پر اب نوٹسز جاری کر دئیے گئے ہیں۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ موصول شکایات اور دستاویزات کے مطابق دونوں سیاسی شخصیات نے اپنے دور میں اثاثے بنائے، جبکہ رشتے داروں کے نام پر بھی اثاثے بنائے گئے جو ڈکلیئر نہیں کیے گئے۔ نیب ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیر معدنیات کے خلاف بھی آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس چل رہا ہے اور اب ان کے رشتہ داروں کو طلبی کے نوٹسز جاری کئے گئے ہیں، نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر امجد علی نے سابقہ دور میں، جب وہ وزیر ہاؤسنگ تھے، مبینہ طور پر کرپشن کے ذریعے اثاثے بنائے۔ صوبائی وزیر نے رشتہ داروں کے نام پر بھی اثاثے بنائے ہیں، جس پر باقاعدہ انکوائری جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق نیب نے پی ٹی آئی کے سوات سے رکن صوبائی اسمبلی اور سابق وزیر لائیو اسٹاک فضل حکیم کے خلاف بھی آمدن سے زیادہ اثاثہ جات اور مبینہ کرپشن کے الزامات پر انکوائری شروع کردی ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ فضل حکیم کے خلاف محکمہ لائیو اسٹاک کے منصوبوں میں مبینہ خورد برد اور آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے حوالے سے شکایات موصول ہوئی تھیں۔ ابتدائی شواہد کی جانچ کے بعد انکوائری شروع کر دی گئی اور باقاعدہ سوالنامہ ارسال کیا گیا ہے۔
سیاستدان ایک دوسرے کو غدار قرار دینا کب بند کریں گے؟
مبصرین کے مطابق جہاں ایک طرف خیبرپختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم ہے وہیں آفریدی سرکار کی نااہلی کی وجہ سے خبرپختونخوا حکومت محصولات کے اہداف حاصل کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہے جبکہ کے پی کے گورنمنٹ کے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے غیر ترقیاتی اخراجات نے صوبے کے معیشت کا کباڑہ نکال دیا ہے، ذرائع کے مطابق اندھا دھندغیر ترقیاتی اخراجات کے سبب خیبرپختونخوا کا 157 ارب روپے کا سر پلس بجٹ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق بے سود احتجاجی سیاست پر فوکس کرنے والی خیبر پختونخواہ حکومت سخت مالی مشکلات میں گھر چکی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے صوبے کے لئے 220 ارب روپے سرپلس دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے صوبے میں رواں مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں شامل 150 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگائے جانے کا خطرہ واضح ہو چکا ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت حسب دستور، مالی بحران کی ذمہ داری وفاق پر ڈالتی نظر آتی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق صوبے کے مجموعی ریونیو کا تقریباً93 سے 94 فیصد حصہ وفاقی فنڈز پر انحصار کرتا ہے اور یہی انحصار سر پلس بجٹ کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن رہا ہے۔ اگر وفاقی محاصل میں کمی آتی ہے تو اس کا براہ راست اثر صوبے کے حصے پر پڑتا ہے جس سے بجٹ کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ وفاقی محصولات میں کمی کی وجہ سے خیبرپختونخوا حکومت کو خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
