اسرائیل کیخلاف حکومت قائداعظم کی پالیسی پرعمل پیراہے،وزیرقانون

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کاکہنا ہے کہ اسرائیل کے بارے  میں  بانی پاکستان  قائداعظم  قومی پالیسی دے چکے ہیں، حکومت پاکستان بانی پاکستان کی قومی پالیسی پر کھڑی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ  کاقومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  مسئلہ فلسطین ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے، مسلمانوں کا قبلہ اول فلسطین میں ہے، حکومت اپنی بساط سے بڑھ کر فلسطینیوں کے لیے ریلیف کا سامان بھیج رہی ہے،حکومت نے فلسطین کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان لاکر ان کی تعلیم شروع کی۔

وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نےکہا کہ مسئلہ کشمیر و فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے مؤقف دو ٹوک اور واضح ہے،اسرائیل کے بارے میں بانی پاکستان اپنی قومی پالیسی دے چکے ہیں، حکومت پاکستان بانی پاکستان قاد اعظم کی قومی پالیسی پر کھڑی ہے۔

اعظم نذیرتارڑ  کا کہنا تھا کہ فلسطین میں اسرائیلی مظالم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے،17 ماہ میں 65 ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اسرائیلی جارحیت میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد فلسطینی شدید زخمی ہیں، 15 ہزار سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں، اسرائیل خواتین، بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ غزہ کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے، نسل کشی کی جارہی ہے، جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیل بمباری سے باز نہیں آرہا، بدقسمتی سے کچھ ممالک غزہ کی صورتحال پر خاموش ہیں، جنوبی افریقا کا اسرائیلی جارحیت کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانا خوش آئند ہے۔

Back to top button