حکومت مذاکرات میں سنجیدہ ہے ،پی ٹی آئی کی ایک زبان نہیں کس پر اعتبار کریں: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات کے معاملے پر سنجیدہ ہے، تاہم پی ٹی آئی کے متضاد مؤقف کے باعث اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تو مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن انہیں نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی اس عمل میں سنجیدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی مختلف مواقع پر مختلف زبانیں بولتی ہے، کبھی فرانسیسی، کبھی انگریزی، کبھی پنجابی اور کبھی اردو میں بات کی جاتی ہے، ایسے میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس بات پر اعتبار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کا مؤقف الگ ہے جبکہ اسمبلی میں بیٹھنے والوں کی بات مختلف ہوتی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جو لوگ ملک سے باہر بیٹھ کر گالم گلوچ کر رہے ہیں، سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بات کرنا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے اور دوہرا کھیل کھیلنے کے لیے اپنی گنجائش رکھنا چاہتی ہے۔ اگر تحریک انصاف کی نیت صاف ہو تو مذاکرات بھی ہو سکتے ہیں اور ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں، لیکن ان کی بدنیتی ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارا معاملہ تاش کے کھیل کی طرح ہے جس میں سب مل کر کھیل رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ اکثریتی پارٹی ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں مقرر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا ہے، جو ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگرچہ ان کا محمود اچکزئی کی سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن ذاتی طور پر ان سے برادرانہ تعلق ہے اور وہ ان کے اپوزیشن لیڈر بننے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف انہیں اختلافِ رائے کا حق دیتے ہیں، حالانکہ عام طور پر وزرائے اعظم اپنے وزرا اور کارکنان کو اتنی آزادی نہیں دیتے۔ خواجہ آصف کے مطابق شہباز شریف اور نواز شریف پاکستان کی سیاست میں ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
