حکومت کی جانب سے کل تک وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا امکان

 

 

 

27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے عدالتی اصلاحات کے اگلے مرحلے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ حکومت جمعرات کے روز وفاقی آئینی عدالت کے قیام کا باضابطہ اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کا مقصد آئینی مقدمات کے فوری فیصلے اور سپریم کورٹ پر مقدمات کے دباؤ میں کمی لانا ہے۔

سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کو متوقع طور پر نئی وفاقی آئینی عدالت کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں ابتدائی طور پر 6 دیگر جج شامل ہوں گے۔ ان میں سے 4 کا تعلق سپریم کورٹ سے اور 2 کا ہائی کورٹس سے ہوگا۔ابتدائی ارکان کے طور پر جن ناموں پر غور کیا جارہا ہے ان میں جسٹس حسن اظہر رضوی،جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق جسٹس باقر نجفی (سپریم کورٹ)، جب کہ جسٹس کے کے آغا (سندھ ہائی کورٹ) اور جسٹس روزی خان بڑیچ (چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ) شامل ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت کی ابتدائی ساخت صدارتی حکم نامے کے ذریعے طے کی جائےگی،تاہم بعد میں ججوں کی تعداد میں اضافہ صرف پارلیمنٹ کی منظوری سے ممکن ہوگا۔صدرِ مملکت چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت سے حلف لیں گے۔

27 ویں آئینی ترمیم سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیلنج کر دی

وزارت قانون کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ صدر مملکت وزیر اعظم کی سفارش پر باقاعدہ تقرریوں کے احکامات جاری کریں گے۔مجوزہ ترمیم کے تحت صدرِ مملکت کو نئے تشکیل شدہ عدالت میں تعیناتیوں کےلیے آئینی اختیار حاصل ہوگا۔

وفاقی آئینی عدالت کا قیام 27ویں آئینی ترمیم میں شامل عدالتی اصلاحات کے پیکیج کا حصہ ہے،جس کا مقصد سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو منظم کرنا، آئینی مقدمات کے فوری فیصلے کو یقینی بنانا، اور عدالتی نظام کی موثریت و وقار کو بہتر بنانا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کا کام کا بوجھ کم ہوگا، آئینی معاملات کے جلد فیصلے ممکن ہوں گے، اور عدلیہ کی آزادی اور ساکھ میں مزید استحکام آئے گا۔

Back to top button