سندھ ہاؤس حملے میں ملوث حکومتی اراکین اسمبلی رہا ہو گئے

اسلام آباد میں سندھ ہاؤس حملے میں ملوث حکومتی اراکین اسمبلی رہا ہو گئے ہیں. میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار اراکین اسمبلی کو وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ شہباز گِل نے تھانے سے چھڑوا لیا. شہباز گل کا کہنا تھا کہ گرفتار ممبران قومی اسمبلی کو شخصی ضمانت پر رہا کروایا ہے.
انہوں نے بتایا کہ قانون پر مکمل عمل درآمد ہوگا اور کارکنوں کو قانونی طریقے سے رہا کروایا جائے گا. شہباز گل نے گرفتار اراکین کو تھانے سے باہر لانے کے بعد میڈیا سے بی گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ توڑپھوڑ نہیں ہونی چاہیے، اگر ہمارے کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی ہے تو تنبیہہ کی جائے گی، ہم حکومت میں ہیں اور ہم نے ہرصورت قانون پر عمل کرنا ہے. واضح رہے کہ کچھ دیر قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے مشتعل کارکنان نے سندھ ہاؤس پر دھاوا بول دیا تھا.
میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتعل کارکنان سندھ ہاوس کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوئے. مشتعل کارکنان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ سے بتایا گیا ہے. پی ٹی آئی کارکنان ہاتھ میں لوٹے پکڑے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے سندھ ہاوس پہنچے. مشتعل کارکنان نے لاتیں مار مار کر سندھ ہاوس کے گیٹ کو توڑ ڈالا اور احاطے میں داخل ہو گئے. میڈیا رپورٹس کے مطابق حکمران جماعت کے ممبر قومی اسمبلی عطا اللہ نیازی بھی مشتعل کارکنان کے ہمراہ تھے. تحریک انصاف کے کارکنان وزیر اعظم عمران خان کے حق میں مسلسل نعرے بازی بھی کرتے رہے.
رپورٹس کے مطابق جب مشتعل کارکنان سندھ ہاؤس پہنچے تو وہاں تعینات سندھ پولیس تحریک انصاف کے کارکنان کے سامنے بے بس نظر آئی. کچھ دیر بعد جب اسلام آباد پولیس کی نفری سندھ ہاؤس پہنچی تو یہ بھی پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے میں ناکام رہی، تاہم کچھ دیر کی کارروائی کے بعد پولیس مشتعل کارکنان کو سندھ ہاوس سے باہر نکالنے میں کامیاب رہی. بتایا گیا ہے کہ پولیس نے واقعے میں ملوث کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا ہے.
رہنما تحریک انصاف عطا اللہ اور فہیم خان بھی گرفتار کارکنان کے ساتھ پولیس وین پر چڑھ گئے جس کے بعد پولیس تحریک انصاف کے دونوں ایم این ایز اور گرفتار کارکنان کو لے کر سندھ ہاوس سے روانہ ہو گئی. یہ بھی یاد رہے کہ اس سے قبل بھی تحریک انصاف کے کارکنان ریڈ زون میں موجود سندھ ہاؤس کے باہر پہنچ گئے تھے جہاں انہوں نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا. احتجاج کو دھرنے میں بدل دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں مظاہرین نے دھرنا بھی ختم کر دیا تھا.
