حکومتی وزراء اپنے مستقبل بارے پریشانی کا شکار ہو گئے

معروف سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی ممکنہ کامیابی کے دعوے کے بعد اب سینئیر صحافی حامد میر نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں حکومتی وزراء بھی اپنے مستقبل بارے بے یقینی کا شکار ہو کر شدید پریشانی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ سہیل وڑائچ نے یہ دعویٰ کردیا ہے کہ
اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپنے نمبرز پورے کر لیے ہیں۔
دوسری جانب سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ ایک حکومتی وزیر نے انکے سامنے اعتراف کیا ہے کہ ہم لوگ بری طرح پھنس گئے ہیں لہذا ہمیں کوئی راستہ بتائیں۔ جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے
حامد میر نے کہا کہ گزشتہ روز ایک حکومتی وزیر نے انہیں کال کی اور کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں، جب ان کے شدید اصرار پر ان سے ملاقات کی تو حکومتی وزیر نے بتایا کہ ہم بہت بری طرح سے پھنس گئے ہیں اور کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کریں۔ لہذا کوئی راستہ نکالیں۔ پھر موصوف بولے کہ آپ نے یہ بات کسی اور سے نہیں کرنی۔ حامد میر نے بتایا کہ اس کے بعد حکومت کے ایک اتحادی کی کال آئی۔ جب میں ان کے اصرار پر ان سے ملاقات کے لیے پہنچا تو انہوں نے مجھے بہت کچھ بتایا لیکن کسی کو نہ بتانے کا کہا۔
سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے کیمپ سے کوئی بات سامنے نہیں آرہی اور ہر معاملے میں رازداری برتی جاتی ہے، لیکن میڈیا پر جو کچھ بھی سامنے آرہا ہے، وہ ادھوری تصویر ہے، خواہ وہ حکومت کی طرف سے ہو یا اپوزیشن کی۔ حامد میر نے بتایا کے اپوزیشن کی جانب سے اپنی عمران خان مخالف حکمت عملی بارے رازداری برتنے کا بنیادی مقصد کاؤنٹر موو کو روکنا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ جسطرح وزیراعظم اپنی حکومت بچانے کے لیے منتیں کر رہے ہیں اس پر اتحادی جماعتیں بہت خوش ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سے ملک میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ عمران خان اپنے ناراض اتحادیوں کو منانے میں مصروف ہے، تو حزب اختلاف کی جماعتیں بھی ان سے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کے ساتھ مل کر تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے نمبرز گیم پوری کر لی ہے۔ حزب اختلاف کا پہلا ہدف حکومت کی دو اہم اتحادی جماعتیں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم تھیں۔
ان دونوں جماعتوں کو بعض پرکشش یقین دہانیوں کے ذریعے آمادہ کر لیا گیا ہے کہ وہ تحریک عدم اعتماد میں حزب اختلاف کا ساتھ دیں گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ قاف لیگ کو ساتھ ملانے کے لیے پنجاب کی وزارت اعلی دی جارہی ہے جبکہ ایم کیو ایم کا ساتھ حاصل کرنے کے لیے سندھ کی گورنر شپ دینے پر اتفاق ہوا ہے۔
مسلم لیگ ق کے قریبی ذرائع کے مطابق تمام امور تحریری طور پر انجام دیے گئے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے حوالے سے تحفظات تھے لہذا مولانا فضل الرحمن، شہباز شریف نے تمام مطالبات کو یقینی بنانے کی ضمانت دی ہے۔ اسی طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والی بلوچستان عوامی پارٹی کے دونوں دھڑوں سے مذاکرات کامیاب ہوچکے ہیں اور پانچوں ممبران قومی اسمبلی اپوزیشن کا ساتھ دینے پر تیار ہو گئے ہیں۔
موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے معروف صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ انکے خیال میں حکومت کی اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق اور ایم کیو ایم کی سوچ میں تبدیلی آ گئی ہے۔ دونوں جماعتیں حزب اختلاف کے قریب آ گئی ہیں۔
سہیل وڑائچ کے بقول،”یقینا یہ اہم ہے کہ کچھ مناسب یقین دہانی کے بعد ہی دونوں جماعتیں حزب اختلاف کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی حکومت اب اتنی مستحکم نظر نہیں آ رہی جیسا کہ ماضی میں ہوا کرتی تھی، اس سلسلے میں سابق صدر آصف زرداری کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے، جنہوں نے اپنے کارڈ بہت بہتر انداز میں استعمال کیے ہیں، شاید وزیراعظم اس بات سے آگاہ ہیں اور اسی لیے انہوں نے زرداری کو اپنی بندوق کے نشانے پر لینے کا اعلان کیا ہے۔
سہیل وڑائچ کے بقول کپتان حکومت کی اس سے بڑی بے بسی کیا ہو سکتی ہے کہ ماضی میں ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے والے حکومتی ادارے اب ان کی مدد نہیں کر پا رہے۔ انکے خیال میں عمران مخالف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں اور اپوزیشن جماعتیں 172 ووٹوں کی نمبرز گیم پوری کرچکی ہیں۔
موجودہ سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے نامور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی کا کہنا یے کہ اسلام آباد میں حکومت کے حوالے سے ماحول سازگار نہیں رہا لگتا ہے وزیراعظم کے دن پورے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے متحرک جماعتیں بہت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ماضی کی طرح اب حکومتی اتحادیوں کو کپتان کا ساتھ دینے کے لیے فون کالز نہیں آ رہیں۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ وہ بہت سارے معاملات جاننے کے باوجود صرف یہ کہہ سکتی ہیں کہ اسلام آباد کا موسم خوشگوار نہیں ہے۔ اسلام آباد کا موسم تبدیل ہو رہا ہے۔ بہار آ رہی ہے، خزاں کے پتے جھڑ چکے ہیں۔ اب کوئی معجزہ ہی وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو بچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناراض ارکان کو منانے میں بہت دیر کردی ہے۔ اب تو ہر لمحہ حکومت کیلیے مشکلات بڑھ رہی ہے۔
اراکین قومی اسمبلی کا وزیراعظم پرمکمل اعتماد کا اظہار
دوسری جانب مسلم لیگ ق کے قریبی حلقے تصدیق کر رہے ہیں کہ چوہدری پرویز الہی کو پنجاب کی وزارت اعلی کا قلمدان سپرد کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ ایک بات بھی طے ہے کہ مرکز میں قائد ایوان کی تبدیلی کے بعد صوبائی اسمبلیاں برقرار رہیں گی کیوں کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومتوں کی تبدیلی میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان خلیج اس وقت بڑھی جب آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری میں حکومت کی طرف سے تاخیر ہوئی۔ اداروں سے بڑھتی ہوئی اس خلیج کا فائدہ حزب اختلاف نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔
ادھر سیاسی جماعتوں کی طرف سے اداروں کی مداخلت کے معاملے کو بھی آرمی چیف نے یہ اعلان کر کے واضح کردیا کہ وہ غیر جانبدار رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کی رائے میں اگر آخری لمحوں میں وسیع تر قومی مفاد آڑے نہیں آیا تو تحریک عدم اعتماد کو کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پیپلز پارٹی کا دعوی ہے کہ تین حکومتی اتحادی جماعتوں کے علاوہ تحریک انصاف کے کم از کم 15 ارکان تحریری طورپر اپوزیشن کو اپنی حمایت کا مکمل یقین دلا چکے ہیں۔ لہذا اپوزیشن کے دعووں سے تو یہی لگتا ہے کہ عمران خان کی حکومت ہٹانے کے لیے اس نے نمبرز گیم پوری کرلی ہے۔
