حکومت کا حساس اداروں کو اراکین پارلیمنٹ کی سخت مانیٹرنگ کا حکم

حکومت نے حساس اداروں کو اراکین پارلیمنٹ کی سخت مانیٹرنگ کا حکم دے دیا ہے. اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ کی مانیٹرنگ کا بڑا فیصلہ کیا گیا ہے.
اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے سویلین حساس اداروں کو ممبران قومی اسمبلی کی کڑی نگرانی کا حکم دیا ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق حساس اداروں کو اراکین پارلیمنٹ کی لوکیشن، کال ڈیٹا اور نقل و حرکت کی سخت مانیٹرنگ کا حکم دیا گیا ہے. وزیر اعظم عمران خان نے سندھ ہاوس کی بھی مانیٹرنگ کا حکم دیا ہے. حساس اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو رپورٹ کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے. اجلاس میں ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں جبکہ سندھ ہاؤس میں پولیس اہلکاروں کی موجودگی پر بھی بریفنگ دی گئی ہے.
فلور کراسنگ پر کارروائی ہوسکتی ہے، الیکشن کمیشن
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ ہاؤس کو ہارس ٹریڈنگ کی آماجگاہ نہیں بننے دیا جائے گا اور کسی بھی قسم کے غیر قانونی اقدام کی قطعاََ اجازت نہیں دی جائے گی. وزیر اعظم نے اس ساری صورت حال پر حکومت کی جانب سے جوابی ایکشن کے فیصلہ کے ساتھ ساتھ وفاقی ایجنسیوں کو سندھ ہاؤس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں. اس کے علاوہ قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو بلانے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے جبکہ شرکاء نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی بھی تجویز دی ہے.
اراکین نے حتمی فیصلے کا اختیار وزیر اعظم عمران خان کو سونپا ہے. وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ جو ارکان لاپتہ ہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں ان کا پتا بھی چل جائے گا. اجلاس میں ہوئے فیصلے کے مطابق منحرف اراکین کو راضی کرنے کا ٹاسک وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیا گیا ہے.
