قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں دو تہائی اکثریت لینے کا حکومتی منصوبہ

صوبہ خیبر پختونخوا میں 16 ماہ کی تاخیر سے سینیٹ کی 11 سیٹوں پر 21 جولائی کو ہونے والا الیکشن خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں حکومتی اتحاد کو چار سیٹیں ملنے کا امکان ہے لیکن چھ سیٹیں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ اسے قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ میں بھی دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے۔

اعداد و شمار کے کھیل کے مطابق مخصوص نشستیں ملنے کے بعد خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے لئے اب ایک کے بجائے چار نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم حکومتی اتحاد کا ہدف چھ نشستوں پر اپنے امیدوار کامیاب کرانا ہے جسکا مقصد قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی جے یو آئی (ف) کے بغیر دو تہائی اکثریت حاصل کرتا ہے۔ 21 جولائی کو 11 نشستوں پر انتخابات کے علاوہ الیکشن کمیشن نے 31 جولائی کو پی ٹی آئی کی سینیٹر ثانیہ نشتر سے مستعفی ہونے کے باعث خالی ہونے والی نشست پر بھی ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس نشست پر اپنا امیدوار کامیاب کرانا پی ٹی آئی کے لئے ایک بڑا امتحان ہوگا کیونکہ اس کامیابی کی صورت میں یہ بات واضح ہو جائے گی کہ علی امین گنڈاپور کی حکومت کو اسمبلی میں اکثریت حاصلنرہتی ہے یا نہیں۔

 یاد رہے کہ فروری 2024 کے الیکشن کے بعد مارچ 2024ء میں قومی اسمبلی، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں میں سینیٹ کی خالی ہونے والی 37 نشستوں پر انتخابات ہو گئے تھے۔ لیکن قومی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں کے ساتھ کے پی کے اسمبلی کی 25 مخصوص نشستوں کی تقسیم کا معاملہ رکنے کے باعث کے پی کے اسمبلی میں سینیٹ کے انتخابات نہیں ہو پائے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کا فیصلہ آنے کے بعد اب کے پی کے اسمبلی میں بھی اراکین کی تعداد مکمل ہو گئی ہے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کے پی کے اسمبلی سے منتخب ہونے والے 11 سینیٹرز کے انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت پولنگ 21 جولائی کو شیڈول ہے۔

جے یو آئی (ف) مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی پارلیمنٹرین اور اے این پی کو 21 خواتین اور 4 اقلیتوں کی مخصوص نشستیں مل جانے کے بعد کے پی کے اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کی تعداد 53 ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کے پی کے اسمبلی کی چار خواتین اور ایک اقلیتی نشست کا نوٹیفکیشن بروقت ہی جاری کر دیا تھا جس میں سے جے یو آئی (ف) کو خواتین کی دو، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو ایک، ایک نشست پہلے ہی مل چکی تھی۔ باقی نشستیں بھی اب ان کے حصے میں آئی ہیں۔ 145 اراکین پر مشتمل کے پی کے اسمبلی کے ایوان میں سات جنرل نشستوں کے لئے کسی بھی امید وار کو زیادہ سے زیادہ 18 اعشاریہ 251 ووٹ درکار ہوں گے۔ سینیٹ الیکشن میں ہر ووٹ کو 100 پوائنٹ کے طور پر گنا جاتا ہے۔ اس طرح جنرل نشست پر کامیابی کے لئے کسی بھی امیدوار کو زیادہ سے زیادہ 18 ہزار 251 پوائنٹس درکار ہوں گے۔ اسی طرح خواتین اور ٹیکنو کریٹس کی دو دو نشستوں پر کامیابی کے لئے امیدوار کو 48 اعشاریہ 331 ووٹ یعنی 48 ہزار 331 پوائنٹس درکار ہوں گے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو بظاہر کے پی کے اسمبلی نے اپوزیشن کی ٹیکنو کریٹس اور خواتین کی ایک، ایک اور جنرل نشستوں پر دو امیدواروں کی کامیابی بھی یقینی نظر آرہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کو 92 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اس حساب سے نمبر گیم کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئی کو پانچ جنرل اور ایک، ایک خواتین اور ایک ٹیکنو کریٹ کی نشست پر برتری حاصل ہے۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ ہوتی ہے اور اکثر دیکھا گیا ہے کہ پارٹی پوزیشن کے برعکس نتائج آتے رہے ہیں، خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں سرپرائزڈ رزلٹ سامنے آتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنی نمبر گیم سے زیادہ سینیٹر کامیاب کراتی رہی ہے۔

96 اراکین پر مشتمل سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لئے حکومت کو 65 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس وقت ایوان بالا میں سینیٹرز کی تعداد 83 ہے۔ پنجاب اسمبلی سے سینیٹ کی ایک نشست سینیٹر ساجد میر کے انتقال کے باعث اور کے پی کے اسمبلی کی ایک سیٹ پی ٹی آئی کی سینیٹر ثانیہ نشتر کے مستعفی ہونے کے باعث خالی ہے۔ باقی 11 نشستوں پر مارچ 2024ء میں انتخابات نہیں ہوئے تھے۔ اس طرح 31 جولائی تک مجموعی طور پر سینیٹ کی 13 نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں۔ اس وقت بھی سینیٹ کے ایوان میں حکومتی اتحاد کو 60 سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے جن میں سے پیپلز پارٹی کے 24 ، نون لیگ کے 18 متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی کے تین، نین، بلوچستان عوامی پارٹی کے چار، قاف لیگ اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک سینیٹرز کے ساتھ پانچ آزاد سینیٹرز شامل ہیں۔

عمران کو سیاست سے مائنس کرنے کی سازش میں PTI  لیڈرز ملوث

ذرائع کے مطابق ساجد میر کے انتقال کے باعث خالی ہونے والی نشست پر 24 جولائی کے ضمنی انتخابات میں وہ نشست نون لیگ کو واپس مل جائے گی جس کے بعد حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی تعداد 61 ہو جائے گی۔ اس طرح دو تہائی اکثریت کے لئے حکومتی اتحاد مزید اپنے چار سینیٹرز منتخب کروانے کے لئے زور لگا رہا ہے۔ کے پی کے اسمبلی میں اپوزیشن کی جن چار نشستوں پر پوزیشن واضح ہے ان میں سے جے یو آئی ف بھی اپنا حصہ ضرور لے گی کیونکہ کے پی کے اسمبلی میں جے یو آئی ف سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے۔ مولانا فضل الرحمن چاہیں گے کہ چار میں سے دو نشستیں ان کے حصے میں آئیں۔ تاہم اس سلسلے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ حکومتی اتحاد انہیں ایک نشست لینے پر راضی کر لے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر حکمران اتحاد کو سینیٹ میں سادہ اکثریت کے حصول کے لئے مزید دو سینیٹرز کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے حکومت نے کے پی کے سے چار کے بجائے چھ سینیٹرز کا میاب کرانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

Back to top button