تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ لٹکانے کا حکومتی منصوبہ


وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کرنے کا بنیادی مقصد تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو آگے لیجانا ہے، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ٹائم فریم کے تحت اس ایشو پر ووٹنگ میں کسی صورت تاخیر نہیں کی جا سکتی اور تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ 28 مارچ تک لازمی کرنا ہو گا ورنہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب سمجھا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے آئینی ٹائم فریم سے انحراف کسی بھی صورت ممکن نہیں اور اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اس معاملے کو عدالت میں لے جاکر لٹکایا جا سکتا ہے تو عدالت تو پارلیمانی معاملات میں دخل اندازی کر ہی نہیں سکتی۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63-اے کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا یے۔ ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ سے رائے مانگی جائے گی کہ جب ایک پارٹی کے اراکین واضح طور پر ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہوں اور پیسوں کے عوض اپنی وفاداریاں تبدیل کریں تو انکے ووٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ سپریم کورٹ سے کہا جائے گا کہ اس ریفرینس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر فیصلہ سنایا جائے۔ بظاہر فواد کے اس ٹویٹ سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ لٹکانا چاہتی ہے کیونکہ پارٹی میں بغاوت کے بعد ان کا جانا ٹھہر چکا ہے اور عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا مطلب عمران کی فراغت ہے۔

اس سے پہلے فلور کراسنگ کرنے والے حکومتی اراکین کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 (اے) کے تحت کارروائی کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔حکومت کی جانب سے عدالت جانے کا فیصلہ تب سامنے آیا جب پی ٹی آئی کے کئی باغی رکن اسمبلی سامنے آگئے اور انہوں نے بتایا کہ وہ سندھ ہاؤس میں مقیم ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے سندھ ہاؤس پر حملے کے بعد یہ اراکین اب ایک ہوٹل میں شفٹ ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ورزا نے الزام عائد کیا ہے کہ اپوزیشن تحریک اعتماد کی کامیابی کے لیے ووٹنگ پر ہارس ٹریڈنگ کر رہی ہے، دوسری جانب باغی اراکین مسلسل دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کپتان کی نکمی حکومت سے عوام کی جان چھڑوانا چاہتے ہیں اور اپنی مرضی سے ووٹ دینے جارہے ہیں۔

خود بار بار سیاسی جماعتیں بدلنے والے وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی قیادت کے نام پر ووٹ لینے والے اراکین کو فلور کراسنگ سے روکنا یے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم آئین اور قانون کے ذریعے تحریک عدم اعتماد کچل دیں گے اور اسی لیے سپریم کورٹ میں بھی ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے۔ تاہم معروف ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے ووٹ بارے آئین ہے آرٹیکل 95 پر عملدرآمد روکنے کے حکم نامے کا اجراء مسترد ہوچکا ہے۔ لہذا انکا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صدر کے ذریعے سپریم کورٹ میں انحراف کی شق کی تشریح کے لیے ریفرنس دائر کرنے سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے آئین میں دی گئی ٹائم لائن متاثر نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی قرارداد کو ختم کرنے کے لیے آئین میں ایک واضح ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔

سینیئر قانون دان حامد خان ایڈووکیٹ نے بھی تصدیق کی کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ووٹ بارے آرٹیکل 95 پر عملدرآمد روکنے کے حکم نامے کے اجراء کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے نہ تین دن سے پہلے اور نہ سات دن کے بعد عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹ دینا ضروری ہے۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین عابد ساقی ایڈوکیٹ نے واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 69کے تحت سپریم کورٹ سمیت ملک کی کوئی عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرسکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہارس ٹریڈنگ کے معاملے کو تحریک عدم اعتماد کے ساتھ مکس اپ کرکے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی باتیں قوم کو گمراہ کرنے کی ایک احمقانہ کوشش ہے۔

اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے معروف قانون دان علی احمد کا کہنا تھا کہ جب کسی سیاسی جماعت کا سربراہ قومی اسمبلی میں ووٹنگ میں اکثریت حاصل کرلیتا ہے تو وہ وزیر اعظم بن جاتا ہے اور جب تحریک عدم اعتماد کی صورت میں اس کی اکثریت ختم ہوجاتی ہے تو اسے اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔ آئین اس معاملے پر بالکل کلیئر ہے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کی رائے لینے کے لیے کوئی صدارتی ریفرنس بن ہی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایسی کوشش کی گئی تو عدالت اسے ابتداء میں ہی مسترد کردے گی۔
دوسری جانب کپتان حکومت کو ایک اور دھچکا تب لگا جب وفاقی وزارت قانون نے منحرف اراکین اسمبلی کو پانچ سال کیلئے نااہل قرار دینے کا آرڈیننس لانے سے انکار کر دیا۔ بتایا گیا ہے کہ وزارت قانون نے اٹارنی جنرل خالد جاوید جان کے تیار کردہ آرڈیننس کے مسودے پر اعتراض لگا دیا ہے۔

وزارت قانون نے آرڈیننس کے ذریعے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے کسی بھی رکن اسمبلی کو نااہل نہیں کیا جا سکتا اور ممبر اسمبلی کی نااہلی صرف پارلیمنٹ کے بنائے گئے ایکٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے الیکشن ایکٹ میں 231 اے متعارف کرنے کیلئے آرڈیننس کا مسودہ تیارکیا تھا۔ مجوزہ آرڈیننس کے مطابق الیکشن ایکٹ 231 اے کے ذریعے منحرف ارکان کو پانچ سال کیلئے نااہل کیا جا سکے گا۔ تاہم وزارت قانون کا موقف تھا کہ آرٹیکل 63(1)(p) کی وضاحت کے مطابق قانونی نااہلی صرف پارلیمنٹ ایکٹ سے ہوسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے تجویز دی تھی کہ وزرات قانون آرڈیننس جاری کر دے چاہے بعد میں کالعدم ہی کیوں نہ قرار پائے، لیکن وزارت قانون نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ اس سے حکومت کی سبکی ہو گی۔

Back to top button