حکومت کا پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف

حکومتی سینیٹر عرفان صدیقی نے پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف کرتےہوئےکہا کہ وہ مانتےہیں پیکا قانون سازی میں حکومت نے جلد بازی کی اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔

سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پیکا کا معاملہ ایسی بات نہیں جس کی اصلاح نہیں ہوسکتی،اس معاملے پر صحافیوں کی رائے لینی چاہیےتھی جو قانون مشاورت سے اچھا بن سکتا تھا وہ متنازع ہوگیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کاکہنا ہےکہ قوانین میں بہتری کی ہمیشہ گنجائش موجود رہتی ہے،ابھی پیکا ایکٹ کے رولز بننےہیں،اس میں مشاورت اور بات چیت کی بہت گنجائش موجود ہے۔

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مزید کہاکہ مشاورت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لےکر چلیں گے،بتایا جائے پیکا ایکٹ میں کون سی شق متنازع ہے ہم اس پر بات کرنے کو تیار ہیں۔

ہائیکورٹ کے جج کے تبادلے کے لیے مشاورت اور متعلقہ جج کی رضامندی ضروری ہے،بیرسٹرعقیل ملک

عطا تارڑ کاکہنا تھاکہ سوشل میڈیا پروٹیکشن اتھارٹی میں نجی شعبے سے نامزدگیاں کی جائیں گی،اتھارٹی میں پریس کلب یا صحافتی تنظیموں سے منسلک صحافیوں کو شامل کیاجائےگا جب کہ ٹربیونل میں بھی صحافیوں اور آئی ٹی پروفیشنل کو شامل کیاگیا ہے۔

Back to top button