حکومت کا PTI کے خلاف دوبارہ 9 مئی والی پالیسی اپنانے کا فیصلہ

پاکستان تحریک انصاف کے 8 ستمبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے جلسے میں حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور صحافیوں پر الزام تراشیوں اور دھمکیوں کے بعد عمرانڈوز کی ایک بار پھر ٹھکائی اور دھلائی یقینی ہو گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی آئی قیادت کے خلاف ایک بار پھر کریک ڈاؤن کا آغاز کردیا ہے۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پی ٹی آئی کے خلاف دوبارہ 9 مئی کی طرز پر سخت پالیسی اپنانے جا رہی ہے۔ جس کے بعد بچے کھچے عمرانڈو بھی اپنے انجام کو پہنچتے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے اپنے رہنماؤں کی گرفتاریوں کو پی ٹی آئی کے خلاف حکومت کی انتقامی کارروائیوں کا تسلسل بتا رہی ہے جبکہ حکومتی ذمہ داران کے مطابق یوتھیوں کو گرفتاریوں کے ذریعے اپنا بویا کاٹنا پڑ رہا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد جلسے کے لیے جاری این او سی کی خلاف ورزی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی سخت تقاریر کے ردِعمل میں شیر افضل مروت سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ان گرفتاریوں کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر 9 مئی کے بعد اپنے خلاف کی گئی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا الزام لگا رہی ہے۔پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما بیرسٹر علی ظفر کے مطابق’بلاشبہ حکومت اس وقت اُن کی پارٹی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے اور ہمارے خلاف 9 مئی کی طرز پر دوبارہ کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔‘ اُن کا کہنا تھا کہ ’8 ستمبر کے کامیاب جلسے کے بعد حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، تاہم اس کے اوچھے ہتھکنڈوں کا ہم مقابلہ کریں گے

دوسری جانب سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ’پی ٹی آئی کو کسی انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا گیانہ ہی آئندہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بلکہ قانون اپنا راستہ خود بنا رہا ہے۔‘وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاریوں کو 8 ستمبر کے جلسے کا ردعمل قرار دیاخواجہ آصف کے مطابق ’جب آپ کہیں کہ خان نہیں تو پاکستان نہیں تو پھر اس بات کا کیا ردِعمل آئے گا، ایسی تقاریر حکومت کے ردِعمل کو جواز فراہم کرتی ہیں۔‘ جبکہ وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کو صرف اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔‘

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ جلسے میں اسٹیبلشمنٹ مخالف تقاریر کے بعد حکومت پی ٹی آئی کے خلاف دوبارہ سخت پالیسی اپناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔اس کے ساتھ ہی فریقین کے درمیان مذاکرات کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔سیاسی ماہرین کے خیال میں علی امین گنڈاپور کی تقریر کے بعد پی ٹی آئی کے خلاف سخت حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔

تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جذباتی تقریر کے بعد حکومت کی جانب سے 9 مئی کے بعد والی حکمتِ عملی اپنائی گئی ہے۔’اگر پی ٹی آئی کے 8 سمتبر کے جلسے سے علی امین گنڈاپور کی تقریر نکال دی جائے تو وہ ایک کامیاب جلسہ تھا، تاہم اُس ایک حماقت کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں بچا۔‘اُنہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر گُھس کر کمروں کی تلاشیاں اور پھر منتخب ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاریاں شہباز شریف اور سپیکر قومی اسمبلی کی ساکھ کو ضرور متاثر کریں گی۔’پی ٹی آئی کے جلسے کے بعد حکومت کی طرف سے آنے والا ردِعمل کوئی دانش مندانہ نہیں تھا، نقاب پوش افراد کا پارلیمنٹ کے اندر داخل ہونا مسلم لیگ ن کی سیاست کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔‘

تاہم سینیئر تجزیہ کار نصرت جاوید کے خیال میں ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حکومت پی ٹی آئی کے خلاف دوبارہ نو مئی کے بعد والی حکمتِ عملی اپنائے گی یا نہیں۔‘اُنہوں نے بتایا کہ ’ایک طرف جلسے کے بعد پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں تو دوسری جانب سپیکر قومی اسمبلی نے ان واقعات کا فوری نوٹس لیا جس سے بیرسٹر گوہر کی رہائی ممکن ہوئی۔‘ تاہم جلسے میں کی گئی سخت تقاریر نے پی ٹی آئی کو نہ صرف نقصان پہنچایا ہے بلکہ انھیں ایوان اقتدار سے مزید دور کر دیا ہے۔

Back to top button