حکومت کا غیر رجسٹرڈ وی پی این بند کرنے کا فیصلہ ، صارفین نے سوال اٹھا دیے

وفاقی حکومت کی جانب سے غیررجسٹرڈ وی پی این کو بلاک کرنے کےفیصلے پرانٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان نےتحفظات کا اظہارکردیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سےغیر رجسٹرڈ وی پی این کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےتاہم انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان نے وی پی اینز کی پابندی کےفیصلے پر تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے متوازن پالیسی کامطالبہ کردیا ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 نومبر کےبعدغیررجسٹرڈ وی پی این کو بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرزایسوسی ایشن کی جانب سےایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

اعلامیہ کےمطابق وی پی اینز کااستعمال پرائیویسی، محفوظ مواصلات، اور آن لائن رسائی کیلئےاہم ہے،حکومت ایسی ریگولیٹری پالیسی بنائےجو معیشت اورڈیجیٹل ترقی کی راہ پر رکاوٹ نہ بنے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ وی پی این کےغلط استعمال کو روکیں لیکن صارفین کے لیےرکاوٹیں پیدا نہ کی جائیں، آئی ٹی برآمدات، مالی لین دین، اورتحقیقی کام کے لیے وی پی اینز کے استعمال میں رکاوٹ پیدا نہ کی جائے۔

اعلامیہ میں بتایاگیا کہ بلاامتیاز پابندیاں معیشت کے لیے اہم شعبوں اور ڈیجیٹل ترقی کونقصان پہنچاسکتی ہیں، ایسوسی ایشن قومی قوانین کےتحت ذمہ دار ٹیکنالوجی کےاستعمال کی حمایت کرتی ہے۔

علی امین گنڈاپور اڈیالہ جیل عمران خان سے ملاقات کےلیے پہنچ گئے

وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرزایسوسی ایشن نے کہا کہ وی پی این کے حوالے سےایک منصفانہ ریگولیٹری طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے، وی پی اینزکےبارے میں سخت پالیسی قانون کی پابندی کرنےوالے صارفین کو متاثرکرسکتی ہے۔

اعلامیہ میں مزیدکہا گیا کہ سیکورٹی خدشات کے حل کیلئے ریگولیٹر، سروس فراہم کنندگان اور دیگراسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون ضروری ہے، ڈیجیٹل آزادیوں،علم کے تبادلے اور تجارت کے لیے سازگارماحول ضروری ہے۔

 

Back to top button